Maktaba Wahhabi

261 - 702
ہوتے ہیں اور یہ توحیدتبصیرِ حق سے پائی جاتی ہے اور اس میں شواہد کے مشاہدہ سے بڑہوتری آتی ہے۔ موصوف آگے لکھتے ہیں : رہی توحید کی دوسری قسم جو حقائق سے ثابت ہوتی ہے تو وہ خواص کی توحید ہے۔ یہ اسبابِ ظاہرہ کا اسقاط اور عقلی نزاعات سے اور شواہد کے ساتھ تعلق سے بلند تر ہو جاتا ہے۔ اس میں نہ تو توحید کی کوئی دلیل پیش کی جاتی ہے اور نہ توکل کا کوئی سبب اختیار کیا جاتا ہے اور نہ نجات کے لیے کسی وسیلہ کو ہی اپنایا جاتا ہے۔ اس میں آدمی صرف مشاہدہ کرنے والا ہوتا ہے جبکہ حق اس کے حکم و علم سے اور اشیاء کو ان کے مواقع پر رکھنے سے سابق ہوتا ہے، چنانچہ کبھی تو وہ اشیاء سے تعلق اختیار کرتا ہے اور کبھی انھیں ان کے نقوش میں چھپاتا ہے۔ وہ علل کی معرفت کو ثابت کرتا ہے اور حدث کے اسقاط کی راہ چلتا ہے۔ یہ خواص کی وہ توحدی ہے جو علم فناء کے ساتھ صحیح ہوتی ہے اور علم جمع میں اور نکھرتی ہے اور ارباب جمع کی توحید کی طرف کھینچتی ہے۔ آگے لکھتے ہیں : رہی تیسری قسم کی توحید تو اسے حق تعالیٰ نے اپنی ذات کے ساتھ خاص کر لیا ہے اور وہ اپنی قدرت کی بنا پر اس کا مستحق بھی ہے اور اس میں سے اپنی پسندیدہ جماعت کے اسرار کی طرف ایک گونہ توحید کو ظاہر کیا ہے اور انھیں اس کی صفت کے بیان سے گنگ کر دیا ہے اور اس کے پھیلانے سے انھیں عاجز کر دیا ہے۔ یہی وہ حدیث ہے جو ’’اسقاطِ حدث‘‘ اور ’’اثباتِ قِدَم‘‘ کے الفاظ کے ساتھ خواص کی زبانوں پر اشارۃً موجود ہے۔ باوجودیکہ اس توحید میں یہ رمز ایک علت ہے اور یہ توحید اس علت کے اسقاط کے بغیر صحیح نہ ہو گی۔ یہ اس طریق کے علماء کی زبانوں پر اس توحید کی طرف اشارہ کرنے کا مدار و محور ہے۔ اگرچہ وہ اس کی خوب خوب تعریف بیان کریں اور اس کی فصلیں ذکر کریں ، مگر عبارت و صراحت اس توحید کو اور زیادہ خفاء میں لے جاتی ہے اور بیان وصف سے نفور اور بڑھتا ہے۔ اس میں بسط و تفصیل زیادہ دشوار ہے۔ احوال و ریاضت والوں نے اسی توحید پر نگاہ جما رکھی ہے۔ اہل تعظیم کا قصد اسی توحید کی طرف ہے۔ عین جمع میں یہی متکلمین کا مطمح نظر ہے۔ اس پر اشارات جا کر فنا ہو جاتے ہیں ۔ پھر زبان اسے بیان نہیں کر پاتی۔ کوئی عبارت اس کی طرف اشارہ کی اہل نہیں رہتی۔ کہ یہ توحید اس سے ماوراء ہو جاتی ہے کوئی مکوَّن اس کی طرف اشارہ یا کوئی خبر اسے لے یا کوئی سبب اس کا تحمل کرے۔ آگے لکھتے ہیں : ماضی میں ایک سائل نے مجھ سے جب توحید صوفیت کے بارے میں پوچھا تھا تو میں نے اسے ان تین قوافی میں جواب دیا تھا: ۱۔ یہ وہ توحید ہے جو اللہ واحد کو ہر ایک سے جدا کرے، کیونکہ اسے ایک کہنے والا ہر ایک (ہر دوسری شے سے) انکار کرنے والا ہے۔ ۲۔ اس کی نعت بیان کرنے والے کی توحید عارضی ہے جسے واحد باطل کر دیتا ہے۔ ۳۔ بندے کی اس کی توحید بیان کرنا اس کی توحید ہے اور اس کی نعت بیان کرنے والا دراصل طعن کرنے والا ہے۔ میں کہتا ہوں : میں نے متعدد مقامات پر ہروی اور اس جیسے لوگوں پر مفصل کلام کیا ہے البتہ ہم یہاں موقع کی
Flag Counter