Maktaba Wahhabi

285 - 406
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے متعلق شبہات حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور جمعرات کا دن : اس پر کلام گزر چکا ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا گھر نذر آتش کر نا: کہتے ہیں :....’’ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا تھا : کاش کہ میں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا گھر نہ جلایا ہوتا ۔‘‘ جواب :.... اس پر رد کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اس کی سند میں علوان بن داؤد البجلی ہے۔ امام بخاری ابو سعید بن یونس، اور ابن حجر اور ذہبی نے اسے منکر الحدیث کہا ہے۔[1] ٭ابن ابی شیبہ ایک دوسری روایت بھی لائے ہیں جو محمد بن بشر کی سند سے ہے، وہ عبیداللہ بن عمر سے روایت کرتا ہے، وہ زید بن اسلم سے، وہ اپنے والد اسلم سے، کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت ہوئی تو حضرت علی اور حضرت زبیر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوا کرتے اور اپنے معاملہ میں مشورہ اور گفت وشنید کیا کرتے تھے ۔اس کی اطلاع حضرت عمرابن خطاب رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو وہ باہر نکلے حتی کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوئے، اورفرمایا: اے دختر رسول اللہ! اللہ کی قسم! آپ کے والدکے بعد تم سے بڑھ کر کوئی دوسرا ہمیں محبوب نہیں ہے اور اللہ کی قسم! اگر یہ لوگ آپ کے پاس اسی طرح جمع ہوتے رہے تو کوئی چیز مجھے اس گھر کو جلانے سے نہیں روک سکے گی۔ جب آپ باہر نکل گئے تو یہ حضرات تشریف لائے۔ تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا تمہیں علم ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے تھے، اور انہوں نے قسم اٹھائی ہے کہ اگر تم نے دوبارہ ایسی حرکت کی تو وہ اس گھر کو جلا دیں گے۔ ہاں اللہ کی قسم! اللہ کی قسم، وہ اپنی قسم پوری کرکے رہیں گے۔ سو تمہاری کا میابی اسی میں ہے کہ تم واپس پلٹ جاؤ اور اپنی رائے لے کر یہاں سے چلتے بنو اور دوبارہ میرے پاس نہ آنا۔ پس وہ لوگ وہاں سے پلٹ گئے اور اس وقت تک واپس نہیں لوٹے جب تک حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت نہ کرلی۔‘‘[2]
Flag Counter