Maktaba Wahhabi

174 - 677
زلفیں : سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سر کے بال بچپن میں طویل تھے۔ پھر بیماری کی وجہ سے ان کے زیادہ بال گر گئے اور کندھوں تک پہنچ گئے۔ جبکہ ان کی عمر چھ سال ہوئی۔ پھر عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ بال بھی دوبارہ اگ آئے اور لمبے بھی ہو گئے۔ وہ کہتی ہیں : ’’جب میں چھ سال کی تھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح کیا۔ جب ہم مدینہ آئے تو ہم بنو حارث بن خزرج کے پاس ٹھہرے۔ مجھے شدید بخار ہو گیا جس کی وجہ سے میرے بال جھڑ گئے۔[1] حتی کہ کانوں تک آ گئے۔[2] واقعہ افک کے دوران سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ محترمہ ام رومان کا یہ کہنا بھی ان کے حسن و جمال میں مزید بڑھوتری کی دلیل ہے: ’’اے بیٹی تم اس معاملہ کو اپنے اوپر ہلکالو۔ اللہ کی قسم! جب بھی کوئی خوبصورت عورت کسی مرد کے پاس ہوتی ہے اور اس کی سوکنیں بھی ہوں تو اس کے خلاف باتیں تو بنتی ہیں۔‘‘[3] ایک روایت میں ہے: ’’بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کوئی حسین و جمیل عورت کسی مرد کے نکاح میں ہو اور وہ اس سے محبت نہ کرتا ہو۔‘‘[4] اس بات پر سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کا وہ قول بھی دلالت کرتا ہے جو انھوں نے اپنی بیٹی سیّدہ حفصہ ام المومنین رضی اللہ عنہا سے کہی تھی: ’’تجھے ہرگز اس دھوکے میں نہ پڑنا چاہیے اگر تیری ہمسائی (سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ) تجھ سے زیادہ حسین ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب ہو۔‘‘[5] ٭٭٭
Flag Counter