Maktaba Wahhabi

482 - 677
جواب:.... ان دونوں شعروں کی رکاکت اسلوب کو دیکھ کر ہی انداز ہو جاتا ہے کہ یہ ابن عباس رضی ا للہ عنہما کا قول نہیں ، پھر اس نے اپنی وفات سے پہلے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق جو کچھ کہا وہ ان شعروں کے منافی ہے۔ جس کی تفصیل ہم سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے ضمن میں تحریر کر آئے ہیں ۔ [1] جب ابن عباس رضی ا للہ عنہما نے خوارج سے مباحثہ کیا جن کے خلاف علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے قتال کیا تو ان کے خلاف یہ دلیل پیش کی ’’اور رہی تمہاری یہ بات کہ اس نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے خلاف (جنگ جمل) میں قتال تو کیا لیکن نہ تو کسی کو قیدی بنایا اور نہ مال غنیمت حاصل کیا۔ (سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا:) کیا تم اپنی والدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو قیدی بناؤ گے۔ تم اس کی وہی چیز حلال کر لو گے جو چیز تم اس کے علاوہ سے حلال کرتے ہو۔ جبکہ وہ تمہاری ماں ہے؟ (چنانچہ ابن عباس نے اس قول علی رضی اللہ عنہ سے استدلال کرتے ہوئے کہا:) اگر تم کہو: بے شک ہم اس سے بھی وہ سب کچھ حلال سمجھتے ہیں جو دوسری عورتوں سے حلال سمجھتے ہیں تو تم اس قول کی بدولت کافر ہو جاؤ گے اور اگر تم یہ کہو کہ کہ وہ تمہاری ماں نہیں تو پھر بھی تم کافر ہو جاؤ گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ ﴾ (الاحزاب: ۶) ’’یہ نبی مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھنے والا ہے اور اس کی بیویاں ان کی مائیں ہیں ۔‘‘ گویا تم دو گمراہیوں میں پھنس چکے ہو۔ تم ان دونوں سے نکل کر دکھاؤ۔ کیا میں تمہارے اس شبہ سے نکل گیا ہوں ۔ انھوں نے کہا: ہاں ۔[2] بارہواں بہتان: وہ کہتے ہیں کہ ’’سیّدہ عائشہ بدصورت کالی سیاہ تھیں ۔‘‘ عباد بن عوام نے کہا: میں نے سہیل بن ذکوان سے پوچھا، کیا تو نے عائشہ دیکھی؟ اس نے کہا: ہاں ۔ میں نے اسے کہا: میرے لیے اس کے اوصاف بیان کرو۔ اس نے کہا: وہ سیاہی مائل تھی۔[3] الادمۃ کا معنی السمرۃ ہے اور لوگوں میں سے الآدم اسے کہتے ہیں جو گندمی رنگ (پختہ رنگ) ہو۔ [4]
Flag Counter