| جرأت کر کے امام بخاری اور امام مسلم رحمہ اللہ دونوں کی اسناد سے غفلت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ سندیں یہ ہیں : صحیح البخاری: عن ابی معمر، عن عبدالوارث عن عبدالعزیز عن انس۔ صحیح مسلم: عن محمد بن المثنی و ہارون بن عبداللّٰہ بن عبدالصمد عن ابیہ عن عبدالعزیز عن انس۔ پھر کہتا ہے: یہ تو ہوا، اب خواہ انس سے اسناد صحت کے ساتھ ثابت ہوں یا نہ ہوں ، یہاں پر کلام تو انس رضی اللہ عنہ کی شخصیت پر ہے۔ سب سے پہلی بات :پہلی روایت میں اس کا جھوٹ بھرا ہواہے اور یہ بات اس بھنے ہوئے پرندہ والی روایت سے ظاہر ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ آ جائیں ۔ (اس پوری حدیث کو بیان کرتے ہوئے انس کے جھوٹ کا نقطہ ہم پر واضح ہو جائے گا)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے آنے کا انتظار کر رہے تھے، وہ جب بھی آتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں تو حضرت انس کہتے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مصروف ہیں ....حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہوئے اور پوچھا: اے انس! تم نے ایسے کیوں کیا ؟ .... الخ[1] جہاں تک بھنے ہوئے پرندے والی حدیث کا تعلق ہے، تو چاہیے تو یہ تھا کہ اس حدیث کو علی الاطلاق قبول نہ کیا جائے جبکہ اس نے اس کی اسانید پر تنقید کرنے کے بعد بھی روایت کو صرف اس لیے قبول کیا ہے تاکہ اس کے دل کو تسلی ہو جائے۔ اس پر مزیدیہ کہ متن پر ایک نظر ڈالنے سے سند میں بحث کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی تھی۔ اس لیے کہ اس روایت میں ہے کہ آپ نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی تھی۔ |
| Book Name | دفاع صحابہ و اہل بیت رضوان اللہ اجمعین |
| Writer | قسم الدراسات والبحوث جمعیۃ آل واصحاب |
| Publisher | دار المعرفہ ،پاکستان |
| Publish Year | |
| Translator | الشیخ شفیق الرحمٰن الدراوی |
| Volume | |
| Number of Pages | 406 |
| Introduction |