Maktaba Wahhabi

322 - 462
پر عمل رہا ہے اور جن حضرات نے دوبارہ جماعت کو مکروہ فرمایا ان کا یہ قول ضعیف، بلکہ بلا دلیل ہے۔‘‘ اس کے بعد اپنے اس دعوے پر حضرت انس، ابو سعید الخدری، ابو امامہ اور سلمان فارسی رضی اللہ عنہم کی روایات سے استدلال کرنے اور ان کی فنی حیثیت بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں: خلاصۂ کلام یہ ہے کہ صحابہ کی ایک جماعت نے اس قصے کا ذکر کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس نووارد کے ساتھ نماز جماعت سے دوبارہ پڑھی۔ جب کہ پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہی نماز پڑھا چکے تھے اور یہاں یہ کہنے کی گنجایش نہیں کہ حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کا اس نووارد صحابی کے ساتھ نماز پڑھنا اس پر جماعت کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا۔ جب کہ ابن ماجہ اور دوسری کتبِ احادیث میں بالصراحت مروی ہے: ’’الاثنین فما فوقھما جماعۃ‘‘ ’’دو یا اس سے زائد جماعت ہے۔‘‘ اگر کہا جائے کہ اس واقعے سے استدلال تام نہیں، کیوں کہ اس میں تو مفترض کی اقتدا متنفل کے لیے جائز ہونے کا ثبوت ملتا ہے، حالانکہ بحث مفترض کے پیچھے نماز پڑھنے میں ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان (( ألا رجل یتصدق علیٰ ھذا؟ )) یا (( أیکم یتجر علی ھذا؟ )) عام ہے جو مفترض اور متنفل دونوں کی اقتدا کو شامل ہیں اور اگرچہ اس واقعے میں متنفل کے لیے مفترض کی اقتدا ثابت ہوتی ہے، لیکن اس سے عموماً دوبارہ جماعت کرانے سے منع کرنا بھی محتاجِ دلیل ہے۔ جب کہ اصول یہ ہے کہ ایک خاص واقعے سے عام الفاظ کو مقید نہیں کیا جا سکتا۔ پھر اس پر راویِ حدیث حضرت انس رضی اللہ عنہ کا عمل بھی شاہد ہے جسے ابو یعلیٰ رحمہ اللہ اور ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے یوں ذکر کیا ہے کہ وہ اپنے بیس ساتھیوں کے
Flag Counter