| قرآن مجید میں بھی ایسے ’سفید پوش‘ کی ضروریات پر اغنیا کو توجہ دلائی گئی ہے۔ سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۷۳ جس کا حوالہ پہلے گزرچکا ہے، میں ایسے ہی لوگوں پرصدقہ و خیرات کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اور اس حدیث میں بھی ان لوگوں کا خاص خیال رکھا گیا ہے، کیونکہ عام مانگنے والے تو دوسروں سے مانگ کر اپنی ضروریات پوری کرلیتے ہیں ، لیکن نہ مانگنے والے محروم لوگ زیادہ حاجت مند ہوتے ہیں ،اس لئے قرآن و حدیث میں ان کے بارے میں خصوصی حکم دیا گیا ہے۔ ٭ ایک حدیث میں سائل و نادار کوخالی ہاتھ لوٹانے سے منع کیا گیا ہے۔ جو کچھ میسر ہو سائل کو دیاجائے خواہ وہ معمولی چیز ہی کیوں نہ ہو ، فرمانِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ((ردوا السائل ولو بظلف محرق)) (نسائی:۲۵۶۶) ’’سائل کو کچھ دے کر ہی واپس کرو خواہ جلا ہوا کُھرہی کیوں نہ ہو۔‘‘ ٭ اسلام میں جہاد بہت بڑے اجروثواب کا کام ہے، لیکن جو شخص بیواؤں اور مسکینوں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے دوڑ دھوپ کرتا ہے، اُسے بھی مجاہد کہا گیا ہے اور اس کی اس تگ و تاز کو جہاد سے تعبیر کیاگیا ہے۔ایک حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہے کہ ((الساعی علی الأرملۃ والمسکین کالمجاھد في سبیل ﷲ۔۔۔ کالقائم الذي لا یفتر وکالصائم الذي لا یفطر)) (بخاری:۶۰۰۷ و مسلم:۲۹۸۲) ’’بیواؤں اور مسکینوں کے لئے دوڑ دھوپ کرنے والا شخص اس مجاہد کی طرح ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتاہے ۔ ۔ ۔ اور اس شخص کی طرح ہے جو رات بھر اللہ کے حضور کھڑا رہتا ہے اور تھکتا نہیں اور اس روزے دار کی طرح ہے جو افطار نہیں کرتا یعنی لگاتار روزے رکھتا ہے۔‘‘ اس حدیث میں اس شخص کو جو مسکینوں اور بیواؤں کی حاجات پوری کرتا ہے، مجاہد کا درجہ دیاگیا ہے اوراس کے اجر کو قیام اللیل کرنے والے اور صائم الدہر شخص کے اجر و ثواب کے برابرقرار دیا۔ ٭ ایک اور حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اغنیا کے مال میں غریبوں کے حق پر طویل گفتگو فرمائی ہے۔ اس حدیث کے راوی حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بینما نحن في سفر مع النبی إذ جاء ہ رجل علی راحلۃ لہ فجعل یصرف |