| معراج اور انصاف کی انتہا ہے۔عقل بھی اسی چیز کا تقاضا کرتی ہے کہ تمام لوگ قانون کی نظر میں یکساں ہوں۔کیونکہ اگر ایسے نہیں ہوگا تو قانون کا عزت و احترام لوگوں کےدلوں سےاُٹھ جائے گا اور قانون وہ زنجیر ہے جو معاشرتی انتشار کو وحدت و یگانگت میں پروتی ہے اور قانون ہی وہ ترازو ہے جو معاشرتی اعتدال کا ضامن ہوتا ہے۔لہٰذا جب اس کا احترام دلوں سے رخصت ہوجائے تو پھر معاشرے میں طاقت کا راج اور لاقانونیت کا بول بالا ہوجاتا ہے۔جو معاشرہ لاقانونیت کی دلدل میں پھنس جائے اور انارکی کا شکار ہوجائے تواسے تباہی و بربادی سے کوئی چیز روک نہیں سکتی۔چنانچہ قانون کا احترام لازمی ہونا چاہیے اور وہ اسی وقت ممکن ہے جب قانون مساوات کا حامل ہو۔ نظریاتی و فلسفیانہ مُساوات مُساوات کا ایک مفہوم تو وہ تھا جو ہم گزشتہ صفحات میں واضح کرچکے ہیں یعنی قانونی و سیاسی مساوات یا پھر جمہوری مساوات،لیکن مساوات کا ایک نظریاتی و فلسفیانہ رخ بھی ہے۔جو اس وقت سامنے آتا ہے جب انسانی معاملات لا دین اور سیکولر طرز فکر کے زیر سایہ تشکیل پانے لگیں۔بلکہ اگر یوں کہا جائے تو بے جانہ ہوگا کہ جمہوری نظام وضع ہی اس لیےکیا گیاتھا کہ وہ اس 'نظریاتی مساوات' کو تحفظ فراہم کرنے کی ضمانت دے۔ یہ مساوات... خیر و شر، اچھائی او ربُرائی، نیکی او ربدی کے تصور کے حوالے سے ہے۔جس میں اس نظریے کو اہمیت حاصل ہے کہ ایک انسان اپنی نجی زندگی میں جو چاہے، وہ طرزِ زندگی اپنائے۔جس کام کو چاہے اچھا کہے اور جسے چاہے بُرا کہہ لے،اس میں اختیار حاصل ہے۔وہ چاہے تو مندر جائے، چاہے تو مسجد، چاہے تو زنا کاری کرے، چاہے عبادت گزاری، الغرض اپنی نجی و انفرادی زندگی میں وہ جو چاہے کرے،یہ اس کی مرضی پر منحصر ہے۔لیکن نظریاتی مساوات یہ کہتی ہے کہ کسی کو بھی موردِ الزام نہ ٹھہرایا جائے او رہر کسی کا یکساں احترام کیا جائے او رہر کسی کی آئیڈیالوجی کو خیر تصور کریں اور برداشت کا رویہ اپنایا جائے۔اس میں ایک مخصوص نظریہ و فلسفہ زندگی کو آپ بہتر نہیں کہہ سکتے بلکہ سب برابر ہیں۔یہی وہ نظریاتی و فلسفیانہ تصورِ مُساوات ہے جس کے تحفظ کے لیے جمہوری سیاسی نظام، جمہوری |