Maktaba Wahhabi

343 - 559
’’مرد،عورتوں پر حاکم ہیں۔ اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک کو دوسرے پر برتری دی ہے اور اس وجہ سے بھی کہ انہوں نے اپنے مال خرچ کیے ہیں۔‘‘ ان دلائل کا تقاضا ہے کہ طلاق صرف شوہر کے ہاتھ میں ہو یا پھر اس شخص کے ہاتھ میں جو شرعاً شوہر کا قائم مقام ہو، مثلاً شوہر نے اسے اس سلسلہ میں وکیل مقرر کیا ہو۔ صورت مسؤلہ میں شوہر کے باپ کو یہ حق نہیں کہ وہ بیٹے کی طرف سے اپنی بہو کو طلاق دے۔ ہاں اگر شوہر نے اپنے باپ یعنی بیوی کے سسر کو طلاق دینے کا باضابطہ اختیار دیا ہو تو پھر اس کے طلاق دینے سے طلاق واقع ہو جائے گی۔ واللہ اعلم! سن رسیدہ کے لیے عدت وفات سوال: ہماری دادی عمر رسیدہ ہیں اور ان کے شوہر بیرون ملک کسی حادثہ میں فوت ہو گئے ہیں۔ وفات کے چھ ماہ بعد دادی اماں کو اطلاع ملی، کیا اس صورت میں اس پر عدت وفات ہو گی؟ وضاحت فرما دیں۔ جواب: اگر کسی عورت کا شوہر فوت ہو جائے تو اس پر عدت وفات ہے، جو چار ماہ دس دن ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ اَرْبَعَۃَ اَشْہُرٍ وَّ عَشْرًا﴾[1] ’’تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ بیویاں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن عدت میں رکھیں۔‘‘ شوہر کی وفات پر یہ عدت ہر بیوی پر لازم ہے خواہ وہ عمر رسیدہ ہو یا جسے مردوں کی حاجت نہیں یا وہ چھوٹی عمر والی ہے جو ابھی سن بلوغ کو نہیں پہنچی، واضح رہے کہ خاوند کی وفات کے بعد بیوی کی عدت شروع ہو جاتی ہے۔ اگر بیوی حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل ہے۔ اگر بیوی کو اپنے خاوند کی وفات کا علم چھ ماہ بعد ہوا تو اس کی عدت ختم ہو چکی ہے۔ اب مزید اسے عدت گزارنے کی ضرورت نہیں، کیوں کہ اسے علم ہی چھ ماہ بعد ہوا جبکہ مذکورہ عدت گزر چکی ہے۔ صورت مسؤلہ میں بیوی کو چھ ماہ بعد وفات کا علم ہوا ہے اس لیے اب از سر نو عدت گزارنے کی ضرورت نہیں ہے۔ واللہ اعلم! طلاق کے لیے غیر صریح الفاظ سوال: میرے والد بیمار، معذور اور ستر سال کی عمر میں ہیں، انہوں نے کافی عرصہ پہلے میری والدہ کو طلاق دی، پھر رجوع کر کے گھر آباد کر لیا، اس کے کچھ عرصہ بعد پھر طلاق دی اور رجوع کر لیا، اب کچھ دنوں پہلے انہوں نے والدہ سے کہا، کہ تم آزاد ہو، ہم پریشان ہیں، کہ اگر یہ طلاق ہے تو انہیں کون سنبھالے گا، انہوں نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ میرا مقصد یہ تھا کہ اگر تم نے میری خدمت نہیں کرنی تو اپنے گھر کے کام کاج کے لیے تم آزاد ہو۔ اس سلسلہ میں ہماری راہنمائی کریں۔
Flag Counter