Maktaba Wahhabi

604 - 728
شخص ایسے ہیں ، جن کے خلاف قیامت کے دن میں خود مدعی ہوں گا۔ (ایک) وہ شخص جو میرا نام لے کر عہد کرے، پھر عہد شکنی کرے، (دوسرا) وہ آدمی جو کسی آزاد انسان کو (غلام بنا کر) بیچ ڈالے اور اس کی قیمت کھالے اور (تیسرا) وہ شخص جو کسی کو مزدور رکھے، پھر اس سے پورا کام لے کر اس کو اجرت نہ دے] کتبہ: محمد عبد اللّٰه (۲؍ ذی الحجۃ ۱۳۳۰ھ) کیا ہندوستان میں عورتوں کی خرید و فروخت کرنا درست ہے؟ سوال: اس ملک، یعنی ہندوستان میں کسی عورت کے وارثان کو اس عورت کی قیمت دے کر خرید لیں تو اس عورت کو اپنے تصرف میں بغیر نکاح کے لا سکتا ہے یا نہیں ، جیسا کہ مکہ معظمہ میں دستور ہے؟ دار الحرب میں یہ مسئلہ جاری ہو سکتا ہے یا نہیں ؟ جواب: جہاں اہلِ اسلام اور کفار میں جہاد ہوتا ہے اور اہلِ اسلام کفار پر غالب آکر کفار کی عورتوں کو اسیر کر لاتے ہیں ، وہی عورتیں مسلمانوں کی مملوکہ اور شرعی لونڈی ہوجاتی ہیں ، پھر تقسیم کے بعد جس کے حصے میں جو عورت پڑ جاتی ہے، جب تک وہ شخص اس کو آزاد نہ کر دے، اپنے تصرف میں لا سکتا ہے، اسی طرح وہ شخص بھی ان کو تصرف میں لا سکتا ہے، جو بذریعہ خریداری یا ہبہ یا وصیت یا میراث کے اُن کا مالک ہوجاتا ہے اور ان عورتوں کے بطن سے غیر مالک کے نطفہ سے جس قدر اولاد ہوتی جائے گی، وہ بھی اسی مالک کی مملوکہ اور شرعی غلام اور لونڈی ہو جائے گی۔ اسی طرح جہاں تک یہ سلسلہ نیچے چلا جائے، چونکہ ہندوستان میں جہاد کی صورت جاری نہیں ہے، لہٰذا نہ یہاں کی عورتوں کو خریدنا چاہیے اور نہ خرید کر کے ان کو بغیر نکاح کے اپنے تصرف میں لانا جائز ہے۔ و اللّٰه أعلم بالصواب۔ کتبہ: محمد عبد اللّٰه کیا غیراللہ کے نام پر پالا ہوا جانور خریدنا جائز ہے؟ سوال: اگر کسی ہندو نے اپنے بت کے نام سے بکرا پالا تھا، بعد چندے اس ارادے سے باز آیا اور اس کو فروخت کرنا چاہتا ہے تو مسلمانوں کو اس کا خریدنا کھانا جائز ہے یا نہیں ؟ صاف صاف ارقام فرمائیں ۔ جواب: مسلمانوں کو اس بکرے کا خریدنا جائز ہے۔ و اللّٰه أعلم بالصواب سوال: سانڈ جو ہندوستان میں ہنود لوگ آزاد کرتے ہیں ، اس کا دربارہ حلت و حرمت کیا حکم ہے؟ جواب: اگرچہ سانڈ کا آزاد کرنا محض ناجائز فعل، بلکہ عین شرک و کفر ہے، مگر سانڈ جو آزاد کیا گیا ہے حلال ہے، بمجرد آزاد کرنے اور غیر الله کے نام پر چھوڑنے سے حرام نہیں ہوا۔ ہاں اگر اس سانڈ کے ساتھ کسی کی ملکیت یا حق متعلق ہے تو اس صورت میں دوسرے کے لیے بدوں اس کے اذن کے حرام ہے، لیکن نہ غیر الله کے نام پر آزاد کیے جانے سے، بلکہ تعلق حقِ غیر کی جہت سے، جیسا کہ ہر چیز کا یہی حال ہے کہ بوجہ تعلق حق غیر کے بدوں اذن اس کے دوسرے کے حق میں حرام ہوتی ہے، الغرض کسی چیز کے غیر الله کے نام پر چھوڑے جانے سے اور آزاد کیے جانے سے اس چیز میں حرمت نہیں آجاتی۔ تفصیل و تحقیق اس مسئلے کی ’’فتویٰ سانڈ‘‘ مصنفہ جناب مولانا حافظ عبد الله صاحب غازیپوری (مدرس اول
Flag Counter