Maktaba Wahhabi

60 - 61
برادران اسلام !عز م ِمصمم ،یقینِ کامل اور توکّل علیٰ اللہ کے ساتھ اگر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت واتباع کی جائے، بدعت کو سنت میں تبدیل کرنے اور ظلمت کونورسے بدلنے کی کوشش کریں گے تو اِن شاء اللہ یہ ناممکن ہے کہ مسلمان ناکام ہوں۔ قارئین کرام سے گذارش شادیوں میں جہیز جوڑے کی مذمت میں بہت مضامین لکھے جاچکے ہیں۔مگر سب نقارخانہ میں طوطی کی آواز بن کررہ گئے۔ اس مذموم رواج کو ختم کرنے کے لئے جتنے خواب دیکھے گئے ان کے شرمندۂ تعبیرہونے کی موہوم سی امید بھی نظر نہیں آرہی۔ طلبِ جہیز جوڑے کی رسم نے مسلم معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے۔ کمزور ایمان والوں کے ایمان متزلزل ہورہے ہیں۔ لڑکیاں سماج پر بوجھ بنتی جارہی ہیں۔ اپنے ہونے والے شوہروں کے ناجائز مطالبات پورا کرنے کے لیے اکثر لڑکیوں کو خودنوکریاں کرنے کے لیے گھروں سے باہر نکلنا پڑتا ہے۔ اس طرح بے حیائی کے دروازے کھلتے جارہے ہیں۔ پردے کا رواج ختم ہورہا ہے۔ شرم وحیاء مٹتی جارہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کھلی نافرمانیاں ہورہی ہیں۔ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتیں پامال ہورہی ہیں۔ شادیوں میں ان بے جااخراجات کی بناء پر اسلام کے اہم ارکان زکوٰۃو حج کی اہمیت ختم ہوگئی ہے۔ ان تمام دینی وایمانی بگاڑ اور معاشرتی وسماجی زلزلوں کے باوجود ہمارے علماء کرام،دینی رہنماو ملی رہبران، مصلحین وپیشوایان کا اس فعلِ شنیع کی مذمت میں چند تقریریں کرلینے اور دینی پرچوں میں چند مقالے لکھ دینے کو کافی سمجھ کر بیٹھ جانا کہاں تک درست ہے؟ کب انھیں فرصت ملے گی کہ یہ درد مندی کے ساتھ ملت کے رستے ہوئے اس ناسور کا مداوا کرسکیں گے۔ مسلم پرنسل لاء اور تحفظِ شریعت جیسے خوبصورت ناموں کے تحت کتنے ہی جلسے جلوس
Flag Counter