Maktaba Wahhabi

360 - 366
زیست کو کسی غیر کے عمل سے آباد نہیں کر سکے گا، تاکہ اس طرح ہر ایک انسان بذات خود عمل و حرکت اور سعی و جہد کی معراج سے ارتقائی منازل طے کرے اس طرح انفرادی قوت کا ایک ایک قطرہ اجتماعی طاقت کا سمندر بن کر تمام دنیا پر چھا سکتا ہے۔ دلاور یوزہ مہتاب تاکے چراغ خود بر افروز ازدم خویش مذکورہ تشریحات سے یہ واضح ہو گیا کہ آیت وسیلہ میں وسیلہ سے مراد ایمان صالح اور عمل صالح ہے اور عمل صالح وہی ہے جو خالصتاً للہ ہو اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہو، یہی قرب الٰہی کا نا قابل شکست وسیلہ ہے۔ نفس و ہوا کے نیزوں پر اٹھا کر جس قدر تقاسیر پیش کی گئی ہیں وہ اسلامی نقطہ نظر سے قابل رد ہیں ۔ عمل صالح کی کرامات: صحیحین کی مشہور حدیث میں تین آدمیوں کے سفر کا جو واقعہ مذکور ہے اس سے بھی یہی واضح ہوتا ہے کہ نجات اور مشکل کشائی کے لیے انسان کے اپنے عمل سے بڑھ کر اور کوئی چیز کار آمد نہیں ۔ وہ تینوں مسافر صحرا میں سفر کرتے ہوئے ایک پہاڑ کے قریب پہنچے اتنے میں بارش آ گئی اس سے بچنے کے لیے انہوں نے ایک غار میں پناہ لی، ان کے غار میں داخل ہونے کے بعد ایک بھاری پتھر لڑھک کر غار کے منہ پر آ گیا اور ان کے باہر نکلنے کی کوئی راہ نہ رہی۔ جب وہ انتہائی بے بس ہو گئے تو انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ بجز اس کے اب اور کوئی چارہ نہیں کہ اب ہر ایک اپنے خالص ترین عمل کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ سے دعا کرے شاید اس طرح اللہ تعالیٰ ہمارے اس مصیبت سے نجات بخشے۔ ایک شخص نے زنا سے بچنے کا واقعہ بیان کر کے یوں دعا کی: ((اَللّٰہُمَّ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اِنِّیْ فَعَلْتُ ابْتِغَائِ وَجْہِکَ فَافْرُجْ عَنَّا۔)) اس کی دعا ختم ہوتے ہی غار کا منہ اتنا کھل گیا کہ آسمان نظر آنے لگا دوسرے نے اپنے بوڑھے والدین کی خدمت گزاری کا واقعہ بیان کر کے انہی الفاظ پر دعا ختم کی غار کا منہ دو
Flag Counter