Maktaba Wahhabi

41 - 127
اور ہمارے قول : ’’بصیغۃ مخصوصۃ ھي المضارع …‘‘ سے وہ (امور ) خارج ہوئے جو فعل سے رک جانے پر صیغہ ء امر کے ساتھ دلالت کرتے ہوں ‘ جیسے : ’’ دع ، أترک ، کف ۔‘‘ اور اس طرح کے دوسرے صیغے ۔اس لیے کہ اگرچہ ان الفاظ میں بھی کسی فعل سے رک جانا طلب کیا جاتا ہے ، مگر یہ صیغہ امر کے ساتھ ہونے کی وجہ سے امر شمار ہوتا ہے ‘ نہی شمار نہیں ہوتا۔ کبھی صیغہ نہی کے علاوہ بھی فعل سے رک جانا مستفاد ہوتا ہے ‘ مثال کے طور پر : ’’ کسی فعل کا وصف حرام ہونا ، یا محظور ہونا ‘ یا قبیح ہونا بیان کیا جائے۔ یا اس ( فعل ) کے کرنے والے کی مذمت بیان کی جائے ، یا اسکے کرنے پر سزا (عقاب ) مرتب ہو‘ اور اس طرح کے دیگر الفاظ[1] صیغۂ نہی کا مقتضی : صیغہ ء نہی اپنے اطلاق پر منہی عنہ کے حرام اور فاسد ہونے کا تقاضا کرتاہے۔ اس بات کے دلائل کہ صیغہء نہی تحریم کا تقاضا کرتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿وَمَا آتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانتَہُوا ﴾ (الحشر:۷)
Flag Counter