Maktaba Wahhabi

504 - 665
سب میاں محمد باقر سے متاثر ہیں۔میاں محمد باقر نے حضرت حافظ عبدالمنان وزیر آبادی سے تعلیم حاصل کی تھی اور حضر ت الامام سید عبدالجبار غزنوی کے دست حق پرست پر شرف بیعت حاصل کیا تھا۔رحمهم اللّٰه تعاليٰ اُس زمانے میں منڈی تاندلیاں والا میں میاں عبدالحق ایم ایل اے کی آڑھت کی دکان تھی۔میاں صاحب نے اپنی دکان سے عبدالرشید کا دس روپے ماہانہ وظیفہ مقرر کردیا جو ہر مہینے باقاعدگی سے انھیں مل جاتا تھا۔دس روپے کو اس زمانے میں خاصی رقم کی حیثیت حاصل تھی، جبکہ ایک من گندم ڈیڑھ روپے میں ملتی تھی اور چینی ایک روپے کی پانچ سیر تھی۔ اب عبدالرشید کی پڑھائی کا آغاز ہوتا ہے۔قاعدہ یسرنا القرآن ان کے ہاتھ میں پکڑا دیا جاتا ہے اور وہ اسے پڑھنا شروع کردیتے ہیں۔میاں محمد باقر اس لڑکے کے استاد بھی ہیں، مرشد بھی ہیں اورمربی بھی ہیں۔وہاں انھوں نے بڑا فیض پایا۔میاں صاحب کو دیکھ کر، ان کی باتیں سن کر اور ان کی مجلس میں بیٹھ کر دل کی دنیا بالکل بدل گئی۔رات کو جاگنے اور تہجد پڑھنے کا شوق پیدا ہوا۔قلب میں اللہ کی یاد کاجذبہ ابھرا، طبیعت مختلف اوقات کے وضائف کی طرف راغب ہوئی۔اللہ سے رشتۂ تعلق مضبوط ہوا، نماز میں حضور وسرور کی کیفیت پیداہوئی۔نماز مغرب کے بعد چھ نفل پڑھنے کی عادت پڑی۔پھر معاملہ یہاں تک پہنچاکہ دل اللہ کی یاد سے تڑپنے لگا اور آنکھوں سے آنسو ابلنے لگے۔ایک دفعہ اسی قسم کی کیفیت طاری تھی، ہچکی بندھی ہوئی تھی اور اس کی آواز حلق سے باہر آرہی تھی کہ ایک شخص قائم دین نے اس حالت میں انھیں دیکھ لیا اور اپنی علاقائی پنجابی زبان میں کہا:”ایہ چھوہر جہیڑا ساڈے درس وچ آیاہے، ایہ تاں مٹرا پنیاں پچھلیاں نوں روندا رہندا اے۔“(یعنی یہ لڑکا جو ہمارے مدرسے میں داخل ہوا ہے یہ تو اپنے عزیز واقارب کی یاد میں روتا رہتا ہے، یہاں یہ کس طرح رہ سکے گا۔) یہ بات عبدالرشیدنے سنی اور میاں صاحب کو بتائی تو انھوں نےفرمایا کہ اب قائم دین اس قسم کی کوئی بات کرے تو اسے کہنا کہ مجھے تو پیدا ہی اللہ سے ڈرنے اور اس کی یاد میں رونے کے لیے کیا گیا ہے۔انسان جتنا اس سے ڈرے گا اور جس قدر اس کی یاد میں آنسو بہائےگا، اللہ تعالیٰ اتنا ہی اس سے خوش ہوگا اور دنیا وآخرت میں اسے کامیابی عطا فرمائے گا۔نیکی میں اضافے اور گناہوں کے ختم ہونے کااصل ذریعہ یہی ہے کہ انسان پر ہروقت اللہ کا خوف طاری رہے اور وہ اپنا سراس کے سامنے جھکائے رکھے۔اس کی آنکھوں سے بھی اس کےآثار ظاہرہوں اور اس کا دل بھی اس سے لرزتا رہے۔چنانچہ آئندہ سطور سے ہمیں پتا چلے گا کہ اللہ تعالیٰ نے اُس عمر میں اپنی یاد میں گریہ وآزاری کی وجہ سے عبدالرشید کو کس قدر اعزاز وتکریم سے نوازا اورانھیں کتنی ان گنت اورعظیم
Flag Counter