| برصغیر (پاک وہند) میں علم حدیثشاہ ولی اللہ دہلوی ۔۔تا ۔۔ مولانا محمدعلی جانباز رحمہما اللہ 1176ھ تا 1429ھ عبد الرشید عراقی[1] شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ : شاہ ولی اللہ بن شاہ عبد الرحیم 4 شوال 1114ھ(فروری 1703ء) صوبہ اتر پردیش کے ضلع مظفر نگر کے قصبہ’’پھلت‘‘ میں پیدا ہوئے۔ ان کا سلسلہ نسب والد کی طرف سے خلیفۂ ثانی امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور والدہ محترمہ کی جانب سے حضرت موسیٰ کاظم رحمہ اللہ سے جاملتاہے۔ شاہ ولی اللہ دہلوی کی ذات تعارف کی محتاج نہیں ، آپ بیک وقت مفسر بھی تھے اور محدث بھی ، فقیہ بھی تھے اور مجتہد بھی ، متکلم بھی تھے اور معلم بھی ، اور اس کے ساتھ عربی وفارسی کے عظیم مصنف بھی تھے۔ مولانا سید نواب صدیق حسن خاں (متوفی 1307ھ) فرماتے ہیں : انصاف این است کہ اگر وجود اودرصدر اول وزمانہ ماضی می بود امام الائمہ وتاج المجتہدین شمردہ می شد حقیقت یہ ہے کہ ان کا وجود گرامی اگر دور اول اور زمانہ ماضی میں ہوتاتو ان کا شمار امام الائمہ اور سربرآور دہ مجتہدین کی جماعت میں کیاجاتا۔ [2] |