| حضرت شاہ صاحب پوری زندگی اس کوشش میں رہے کہ برصغیر میں کتاب وسنت کا مضبوط عَلَم گاڑ دیا جائے جو کبھی بھی سرنگوں نہ ہونے پائے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس میں کامیاب وکامران فرمایا ، ان کی اس سعی وکوشش اور جدوجہد کا تذکرہ شیخ محمد اکرم مرحوم نے درج ذیل الفاظ میں کیاہے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ دنیائے اسلام میں بہت ہی کم بزرگ ہوں گے جن سے آپ(شاہ ولی اللہ) پیچھے رہے ہیں آپ نے بیسیوں کتابیں لکھیں تفسیر،حدیث،فقہ،تاریخ،علم کلام غرض کہ علوم اسلام کی کوئی شاخ نہیں جسے آپ نے سیراب نہ کیا ہو اور اللہ کا فضل ایسا شامل حال تھا کہ جس چیز کو ہاتھ لگاتے کندن ہوجاتی۔ [1] شاہ ولی اللہ دہلوی کی خدمت حدیث : 1142ھ میں حضرت شاہ ولی اللہ حج بیت اللہ کے لیے حرمین شریفین تشریف لے گئے وہاں آپ کا قیام 1145ھ تک رہا ۔ حرمین شریفین کے قیام میں آپ نے علامہ شیخ ابو طاہر الکردی رحمہ اللہ اور دوسرے اساتذہ حرمین شریفین سے علوم اسلامیہ اور خاص علم حدیث میں استفادہ کیا ۔ 1145ھ میں جب شاہ صاحب واپس ہندوستان آنے لگے تو اپنے استاد شیخ ابو طاہر الکردی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کی خدمت میں عرض کیا کہ ’’میں نے جو کچھ پڑھا تھا ، سب بھلا دیا سوائے علم دین حدیث کے‘‘ حضرت شاہ صاحب کی پوری زندگی اس کی تصدیق کرتی ہے کہ وہ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریح وتفہیم تدریس وتعلیم اور اشاعت وتعمیم میں مصروف رہے۔ مولانا سید نواب صدیق حسن خاں فرماتے ہیں کہ جناب شاہ ولی اللہ کا علوم متداولہ میں وہ پایہ تھا جس کا شمہ بھی بیان کرنے سے انسانی طاقت محض عاجز ہے ، آپ فنون عقلیہ میں وہ دستگاہ رکھتے تھے جس کا عشر عشیر بھی دوسروں کو نصیب نہ تھا۔ قطع نظر ان تمام علوم کے حدیث میں اپنے تمام ہم عصروں سے امتیازی قوت رکھتے تھے اور اس علم میں مقتدائے وقت اور فرید عصر شمار کئے جاتے تھے۔[2] ہندوستان واپس آتے ہی حضرت شاہ صاحب نے حدیث کی نشرواشاعت کے لیے گویا کمر کس لی اور ان کا آبائی مدرسہ رحیمیہ ہندوستان کے طول وعرض میں حدیث کی سب سے بڑی درسگاہ بن گئی جہاں برصغیر کے گوشہ گوشہ سے تشنگانِ علم حدیث نے پروانہ وار ہجوم کیا۔ |