Maktaba Wahhabi

121 - 135
حضرت نواب صدیق حسن خاں فرماتے ہیں :جناب شاہ ولی اللہ کی درسگاہ اس وقت علوم حدیث وتفسیر کا مخزن اور فقہ حنفی کا سرچشمہ تھی اس مقدس اور بلند پایہ علم کی خدمت میں جس قدر آپ سے وجود پذیر ہوئی ، فی الواقع ہندوستان میں کوئی شخص اس کا دعوے دار نہیں بن سکتا۔[1] حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی سے بے شمار علماء نے حدیث میں استفادہ کیا آپ کے مشہور تلامذہ جنہوں نے علم وادب میں اپنا ایک مقام پیدا کیا اور اہل علم واہل قلم نے ان کے علم وفضل کا اعتراف کیا ہے ۔اور وہ تھے ۔ آپ کے صاحبزادگان ذی شان ، شاہ عبد العزیز محدث ( متوفی 1239ھ؁) ، شاہ رفیع الدین محدث (متوفی 1233ھ؁) ، شاہ عبد القادر محدث ( متوفی 1230ھ؁) ، شاہ عبد الغنی محدث (متوفی 1227ھ؁) علامہ سید مرتضیٰ بلگرامی(متوفی 1205ھ؁) صاحب ’’تاج العروس‘‘ علامہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی(متوفی 1225ھ؁) صاحب تفسیر مظہری ۔ خدمت حدیث میں حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کی تصنیفی خدمات حسب ذیل ہیں ۔ موطا امام مالک کی دو شرحیں المسوّی (عربی) اور المصفی (فارسی)، تراجم ابواب البخاری(عربی) ان کے علاوہ چار اور رسائل بھی ہیں ۔ مولوی ابو یحییٰ امام خاں نوشیروی(متوفی 1386ھ) لکھتے ہیں کہ جناب حجۃ اللہ شاہ ولی اللہ نے حدیث کی اول الکتب موطا امام مالک رحمہ اللہ کی دوشرحیں (عربی وفارسی میں ) بنام المسویٰ اور المصفیٰ لکھیں ، اور تقلیدی بندھنوں سے بے نیاز رہ کر اُس مجتہدانہ شان کے ساتھ کہ 12ویں صدی ہجری کے مجدد کا فرض تھاان دونوں کا گویا ضمیمہ’’الانصاف فی بیان سبب الاختلاف‘‘ کے نام سے لکھا تکملہ’’عقد الجید فی أحکام الاجتہاد والتقلید‘‘ سے کیا اور تتمہ ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ جیسی غیر مسبوق کتاب سے ۔ حجۃ اللہ البالغہ دین کی محبت بنی اس کے ابلاغ نے حق وباطل میں امتیاز کردیا اس ےک ایک ایک لفظ نے تشویق الی السنۃ اور تحریض عمل بالحدیث کا درس دیا۔ [2] مولانا سید ابو الحسن علی ندوی ( متوفی : 1999ھ؁) فرماتے ہیں کہ شاہ ولی اللہ صاحب فقہ حدیث اور درس حدیث کا جو طریقہ رائج کرنا چاہتے تھے یہ دونوں کتابیں (المسویٰ والمصفی) اس کا نمونہ ہیں اور ان سے شاہ صاحب کی علوم حدیث اور فقہ حدیث
Flag Counter