| میں محققانہ اور مجتہدانہ شان کا اظہار ہوتاہے وہ موطا کو صحاح ستہ میں پہلے درجہ پر رکھتے ہیں اور اس کو ان میں ابن ماجہ کی جگہ شمار کرتے تھے وہ موطا کے بے حد قائل اور اس کے ساتھ اعتناء کرنے اور اس کو درس حدیث میں اولیت دینے کے پر جوش داعی اور مبلغ ہیں ۔ [1] شرح تراجم ابواب البخاری صحاح ستہ کے مولفین نے اپنے اپنے ذوق کے مطابق اپنی کتابوں کا انتخاب کیا ہے ۔ حضرت امام بخاری رحمہ اللہ کے پیش نظر طرق استنباط اور استخراج مسائل ہے جو ان کے تراجم ابواب سے ظاہر ہے اہل درس کا مشہور مقولہ ہے کہ ’’بخاری کی ساری کمائی ان کے تراجم میں ہے ‘‘ حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ نے اس رسالہ کی شرح بزبان عربی کی ہے یہ رسالہ مطبوع ہے ۔ وفات حضرت شاہ ولی اللہ نے 29 محرم الحرام 1176ھ بروز شنبہ ( 21 اگست 1762ء) ظہر کے وقت دہلی میں انتقال کیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون عمر 62 سال تھی اور تدفین قبرستان ہندویاں بیرون دلّی دروازہ میں ہوئی ۔ [2] شاہ عبد العزیز محدث دہلوی : حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی فرزنداکبر تھے۔ 25 رمضان المبارک 1159ھ/1745ء دہلی میں پیدا ہوئے۔ تاریخی نام غلام حلیم تھا ۔ 15سال کی عمر میں علوم عقلیہ ونقلیہ سے فراغت پائی ، علم وفضل کے اعتبار سے جامع الکمالات تھے صاحب علم وعمل وقائع عبد القادر درخانی لکھتے ہیں کہ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی علم تفسیر،حدیث،فقہ،سیرت اور تاریخ میں شہرہ آفاق تھے ، اور ہیت،ہندسہ، مناظر، اضطرلاب، جرنقیل، طبیعات، الٰہیات، منطق،مناظرہ، اتفاق، اختلاف ، ملل ونحل، قیافہ، تحلیل، تطبیق ، مختلف اور طریق تشبیہ میں یکتائے زمانہ تھے۔ [3] 17 سال کے تھے کہ آپ کے والد محترم حضرت شاہ ولی اللہ واصل بحق ہوئے اور آپ مسند ولی اہلی دہلوی پر بر اجمان ہوئے اور پوری زندگی حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تدریس فرمائی ۔ ان کے تلامذہ کی فہرست |