| بھی طویل ہے مشہور تلامذہ یہ ہیں ۔ حضرت شاہ رفیع الدین محدث(برادرخورد) ، مولانا شاہ محمد اسحاق، مولانا شاہ محمد یعقوب پسران شیخ محمد افضل سیالکوٹی(آپ کے نواسے) مفتی صدر الدین خان آزردہ دہلوی، مولانا غلام علی دہلوی ، مولانا سید عبد الخالق دہلوی، مولانا شاہ محمد اسماعیل شہید دہلوی ، مولانا شاہ عبد الحی بڈھانوی، مولانا شاہ فضل رحمان گنج مراد آبادی ، مولانا خرم علی بلہوری ۔ [1] حضرت شاہ عبد العزیز تمام علوم اسلامیہ وعقلیہ ونقلیہ میں ید طولیٰ رکھتے تھے تصنیف وتالیف اور وعظ وتبلیغ اور تقریر میں بلا کا جادو تھا آپ کی شیوہ بیانی کا ہر موافق ومخالف پر یکساں اثر ہوتا تھا سید نواب صدیق حسن خاں فرماتے ہیں کہ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی کثرتِ حفظ، علم تعبیر رؤیاء ، سلیقہ وعظ وانشاء تحقیقات علوم اور حریف کے ساتھ بحث ومناظرہ میں اپنے تمام اقران ومعاصرین میں ممتاز تھے اور اس باب میں ان کے مخالف وموافق ان کا لوہا مانتے تھے عمر بھر تدریس وفتویٰ نویسی ، مختلف علمی معرکوں میں فیصلہ کرنے وعظ ونصیحت، مریدوں کی روحانی تربیت اور شاگردوں کی علمی رہنمائی میں مصروف رہے۔ [2] خدمت حدیث میں شاہ عبد العزیز کی تصنیفی خدمات حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی کی خدمت حدیث کے بارے میں مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جہاں تک درس حدیث اور اس کی ترویج واشاعت کا تعلق ہے ، ہندوستان کی علمی ودینی تاریخ میں ان کی مثال ملنی مشکل ہے ، آپ کے درس حدیث کی مدت تقریباً 64 سال کی ہے ۔ اس مدت میں آپ نے نہ صرف صحاح کا درس دیا اور بستان المحدثین، العجالۃ النافعہ جیسی مفید کتابیں تصنیف کیں ، جو حدیث کا صحیح ذوق، طبقات حدیث سے واقفیت اور محدثین کا مرتبہ شناس بتاتی اور اصول سے واقف کراتی ہیں جن میں سینکڑوں صفحات کا عطر آگیا ہے آپ نے حدیث کے ایسے اساتذہ کاملین اور تلامذہ راشدین پیدا کیے جنہوں نے ہندوستان ہی میں نہیں حجاز میں بھی درس حدیث کا فیض عام کیا ۔ [3] عجالہ نافعہ یہ رسالہ فارسی زبان میں ہے اور اس کا موضوع اصول حدیث ہے ، یہ رسالہ حضرت شاہ عبدالعزیز نے |