| سید قمر الدین حسینی رحمہ اللہ کی خواہش پر تحریر فرمایا ، اس مختصر رسالے میں حضرت شاہ صاحب نے مصطلحات حدیث اور اس کی اقسام ومراتب اور حدیث کی تنقید کے اصول وقواعد نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ بیان کیے ہیں ۔ محترمہ ڈاکٹر ثریا ڈار صاحبہ اس رسالہ کے بارے میں لکھتی ہیں کہ اس رسالے کی فصل اول میں علم حدیث کے فوائد کے تحت بیان کیا گیاہے کہ علم القرآن عقائد اسلام اور احکام شریعت اور اصولِ طریقت سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات پر موقوف ہیں ۔ تمام کشفی باتوں اور عقلی معاملوں کے زروجواہر کو پرکھنے کے لیے علم حدیث کی اتباع لازمی ہے کیونکہ علم حدیث دونوں جہانوں کا سرمایۂ سعادت اور حیاتِ جادوانی کی دلیل راہ ہے۔[1] اس رسالہ کا عربی اور اردو میں ترجمہ ہوچکاہے ، عربی ترجمہ ڈاکٹر حافظ عبد الرشید اظہر رحمہ اللہ اوراردو میں ترجمہ مولانا محمد عبد الحلیم چشتی رحمہ اللہ نے کیا ہے دونوں ترجمے مطبوع ہیں ۔ بستان المحدثین یہ کتاب بھی فارسی میں لکھی گئی ہے یہ کتاب محدثین کرام کے حالات اور کتب احادیث کے تعارف میں ہے ، یہ کتاب فن تاریخ کا ایک بہترین ذخیرہ ہے اور اہل علم کے نزدیک یہ کتاب بڑی معتبر اور مستند خیال کی جاتی ہے ۔ حضرت شاہ عبد العزیز نے اس کتاب کا آغاز موطا امام مالک رحمہ اللہ سے کیا ہے اور موطا کے (16) نسخوں کا تعارف کرایا ہے اور کتب حدیث کا تعارف اس کی پہلی حدیث سے کرایا ہے یہ کتاب بڑی معلوماتی اور اہل علم کے لیے نافع ہے ۔ شیخ محمد محسن اس کتاب کے بارے میں فرماتے ہیں : منھا کتابہ بستان المحدثین جمع فیہ علوم الحدیث مھذبۃ واختصرھا یعنی شاہ عبد العزیز کی تصانیف میں ایک کتاب بستان المحدثین ہے جس میں انہوں نے علوم حدیث کو عمدہ اور مختصر انداز میں جمع کر دیا ہے ۔[2] وفات حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی نے 4 شوال 1239ھ / 1822ء بعد نماز فجر دہلی میں انتقال کیا ۔ انا للہ |