| وانا الیہ راجعون اور قبرستان ہندیاں میں اپنے والد محترم حضرت شاہ ولی اللہ کے پہلو میں دفن ہوئے۔ [1] مولانا شاہ محمد اسمعیل شہید دہلوی مولانا محمد اسمعیل شہید دہلوی بن مولانا شاہ عبد الغنی محدث بن امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی 12 ربیع الثانی 1193ھ مطابق 12 اپریل 1779ء قصبہ پھلت ضلع مظفرنگر(اُتر پردیش) میں پیدا ہوئے۔ 6 سال کی عمر میں تعلیم کا آغازہوا اور 8 سال کی عمر حفظ قرآن مجید کی نعمت سے بہرہ ور ہوئے اسلامی علوم کی تدریس کی ابتداء اپنے والد شاہ عبدالغنی محدث سے کی ۔ 1227ھ میں آپ کے والد محترم نے انتقال کیا تو اس کے بعد مولانا شاہ عبد القادر محدث دہلوی اور حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی نے اپنے یتیم بھتیجے کی سرپرستی فرمائی اور ان کو تمام علوم اسلامی پڑھائے۔ اللہ تعالیٰ نے شاہ اسمعیل شہید کو ذہانت وذکاوت سے نوازا تھا چنانچہ بہت تھوڑی عمر میں تمام علوم اسلامی پر حاوی ہوگئے ، مولانا سید نواب صدیق حسن خاں فرماتے ہیں کہ شاہ محمد اسمعیل بن شاہ عبد الغنی محدث علوم معقول ومنقول میں اس درجے ماہر تھے کہ انہیں دیکھ کر پُرانے لوگوں کی یاد ذہن سے نکل جاتی۔ فروع واصول میں مہارت کا یہ عالم تھا کہ اس کے ائمہ سے بھی بڑھ گئے تھے جس علم کے بارے میں آپ نے ان سے بات کی یہ جانا کہ یہ اس کے امام ہیں اور جس فن میں آپ ان سے مصروف گفتگو ہوئے یہ محسوس کیا کہ یہ اس کے حافظ ہیں ۔ اصول فقہ نوک زبان تھا اور قواعد حساب چٹکیوں میں حل کر دیتے تھے علوم قرآن وحدیث ان کے سینے میں محفوظ تھے اور فقہ ومنقول میں انہیں پوری مشق حاصل تھی۔ [2] علم وفضل حضرت شاہ محمد اسمعیل شہید علم وفضل کے اعتبار سے جامع الکمالات تھے آپ بہت بڑے مبلغ ، واعظ اور مقرر تھے ان کی تقریر میں بڑا جادو تھا جو شخص ان کی تقریر اور وعظ سنتا وہ مسحور ہوجاتا اور ان کا مطیع اور مرید ہوجاتا۔ مولانا شاہ عبد العزیز محدث دہلوی فرمایا کرتے تھے : |