Maktaba Wahhabi

126 - 135
میری تقریر اسمعیل نے لے لی تحریر رشید الدین نے اور تقویٰ اسحاق نے۔ [1] شاہ صاحب ایک جیّد عالم، دینی مفکر، قاطع بدعت، بلند پایہ مبلغ وواعظ، اعلیٰ پایہ کے خطیب ومقرر ، عظیم مجتہد، مفکر، مدبر، محدث، فقیہ، مورخ، محقق ، انشا پرداز، غیر معمولی بصیرت کے مالک، متقی، پرہیزگار، زہد وورع کے پیکر، متواضع، ذہین وفریس، تقوی وطہارت میں اعلیٰ وارفع، شجاع،بہادر، اور بے پناہ بصیرت کے مالک تھے ۔ مولوی رحمان علی بریلوی ان کے علم وفضل اور ان کی علمی بلندی کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان مولوی عبد الغنی بن مولانا شاہ ولی اللہ دوریاضت ورسائی فکر یگانہ روزگار ومشارٌ إلیہ علمای کبار بود یعنی شاہ عبد الغنی کے یہ فرزند اور شاہ ولی اللہ کے پوتے دیانت اور فہم وفکر میں یگانہ روزگا تھے حلقہ علمائے کبار میں مشارٌ الیہ تھے۔ [2] مولانا سید نواب صدیق حسن خان حضرت شاہ محمد اسمعیل شہید کی عظیم شخصیت اور ان کے علمی تبحر اور ان کی عدالت وثقاہت ،شجاعت وبسالت، امانت ودیانت اور ذکاوت وخلافت کے بارے میں فرماتے ہیں ہر یکے از ایشاں بے نظیر وقت خووفرید دہر وحید عصر درعلم وعمل وعقل وفہم وقوت تقریر وفصاحت تحریر ورع وتقویٰ ودیانت وامانت ومراتب وولایت بودععلم چنیں اولاد اولاد ... ایں سلسلہ از طلائے ناب است یعنی اس خاندان کا ہر فردعلم، عمل، عقل وفہم، زور تقریر، فصاحتِ تحریر، ورع وتقویٰ ، دیانت وامانت اور مراتب ولایت میں یگانہ روزگار ، فرید دہراور وحید عصر تھا اور ان کی اولاد کی اولاد بھی انہی درجات بلند پر فائز تھی یہ ایک زریں سلسلہ تھا۔ [3] حضرت نواب صاحب اپنی دوسری کتاب’’ابجد العلوم‘‘ میں خاندان شاہ ولی اللہ دہلوی کے بارے میں فرماتے ہیں : وكلهم كانوا علماء نجباء حكماء فقهاء كأسلافهم وأعمامهم كيف وهم من بيت العلم الشريف والنسب الفاروقي المنيف خاندان شاہ ولی اللہ دہلوی کے تمام علماء ،حکماء ، فقہاء، چمکتے ہوئے سورج کی مانند تھے اور اپنے اسلاف کی طرح فقیہ تھے اور علم شریف میں پختہ تھے اور نسب کے لحاظ سے فاروقی خاندان کے
Flag Counter