| چشم وچراغ تھے ۔ علامہ اقبال حضرت شاہ اسمعیل شہید دہلوی کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ہندوستان نے ایک مولوی پیدا کیا اور وہ مولوی شاہ محمد اسمعیل کی ذات تھی۔ [1] مولانا سید ابو الحسن علی ندوی ( متوفی 1999ء) لکھتے ہیں : جہاں تک مولانا شاہ محمد اسمعیل شہید کا تعلق ہے وہ ان اولو العزم ، عالی ہمت، ذکی، جری اور غیر معمولی افراد میں تھے جو صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں وہ مجتہدانہ دماغ کے مالک تھے اور اس میں ذرا مبالغہ نہیں کہ ان میں بہت سے علوم کے از سر نو مدون کرنے کی قدرت وصلاحیت تھی۔ [2] حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی مولانا شاہ محمد اسمعیل کےبارے میں اللہ تعالیٰ کے حضور ہاتھ اٹھا کر یہ دعا کیا کرتے تھے : الحمد للہ الذی وھب لی علی الکبر اسمعیل واسحاق اس اللہ تعالیٰ کی تعریف ہے جس نے مجھے بڑھاپے میں اسمعیل(بھتیجا) اور اسحاق(نواسہ) عطا فرمائے۔ [3] مولانا شاہ اسمعیل شہید دہلوی کی دو بے نظیر تصانیف 1۔ تقویۃ الایمان (اردو)2۔ تنویر العینین فی اثبات رفع الیدین (عربی) تقویۃ الایمان یہ کتاب حضرت شاہ صاحب کی عربی کتاب’’رد الاشراک‘‘ کے پہلے حصہ کااردو ترجمہ ہے اس کتاب میں شاہ صاحب نے قرآن کریم کی(36) آیات اور (47) احادیث سے دلائل پیش کرتے ہوئے شرک وبدعت کا رد کیا ہے ۔ تقویۃ الایمان سے خلق اللہ کووہ فاہدہ پہنچا اور عقائد کی ایسی اصلاح ہوئی کہ شاید کسی حکومت کی منظم کوشش سے مشکل سے ہوتی ۔ مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اس (تقویۃ الایمان) سے بہت ہی نفع ہواچنانچہ مولوی اسمعیل کی حیات ہی میں دو ڈھائی لاکھ آدمی درست |