| ہوگئے تھے اور ان کے بعد جو کچھ نفع ہوا اس کا تو اندازہ ہی نہیں ہوسکتا۔ [1] مولانا محمد عطاء اللہ حنیف بھوجیانی (متوفی 1987ء) لکھتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ تقویۃ الایمان جو شخص بھی صاف ذہن سے پڑھے گا وہ محسوس کرے گا؎ دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا میں نے یہ جانا کہ گویایہ بھی میرے دل میں ہے۔ [2] تنویر العینین فی اثبات رفع الیدین یہ کتاب عربی میں ہے اس میں حضرت شاہ صاحب نے متعدد احادیث سے نماز میں رفع الیدین کرنے کا ثبوت بہم پہنچایاہے اور اس کتاب کی تصنیف کے بعد مولانا شہید رحمہ اللہ نے خود ہی رفع الیدین پر عمل شروع کردیا تھا علاوہ ازیں اس کتاب میں آمین بالجہر اور فاتحہ خلف الامام کی طرف اشارات کئے گئے ہیں اور کتاب کے آخری باب میں تقلید شخصی کی بدلائل تردید کی گئی ہے ۔ جب یہ کتاب حضرت شاہ صاحب نے تالیف کی تو مولانا شاہ عبد القادر محدث اور مولانا شاہ عبد العزیز محدث حیات تھے مولانا سید نواب صدیق حسن خاں اپنی کتاب ’’ اتحاف النبلاء ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ : حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی اور حضرت شاہ عبد القادر محدث دہلوی رحمہم اللہ نے یہ کتاب پڑھ کر اظہار پسندیدگی فرمایا تھا اور حضرات شاہ عبد العزیز محدث نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ یہ گھر محققین علم حدیث سے خالی نہیں ہے ۔ [3] تنویر العینین کے شائع ہونے سے مقلدین حضرات کے ایوانوں میں زلزلہ آگیا اور ان کی نیندیں حرام ہوگئیں چنانچہ مولوی محمد شاہ پاک پٹنی جو ایک غالی مقلد تھے (حدیث میں شیخ الکل حضرت میاں سید محمد نذیر حسین محدث دہلوی(متوفی 1320ھ) کے شاگرد تھے ’’تنویر الحق‘‘ کے نام سے ’’تنویر العینین‘‘ کا جواب دیا۔ تنویر الحق کی تردید میں حضرت میاں سید محمد نذیر حسین محدث دہلوی ’’معیار الحق‘‘ تالیف فرمائی اور ان تمام اعتراضات کا جواب دیا جو مولوی محمد شاہ صاحب نے اپنی کتاب ’’تنویر الحق‘‘ میں کیے تھے۔ معیار الحق کی اشاعت سے مقلدین حضرات بوکھلا اُٹھے چنانچہ ایک اور غالی مقلد مولوی ارشاد حسین رام پوری (متوفی 1311ھ) نے معیار الحق کے جواب میں ’’ انتصار الحق‘‘ لکھی ، معیار الحق اور انتصار الحق یہ دونوں |