| کتابیں مولانا ابو الکلام آزاد رحمہ اللہ کے مطالعہ میں آئیں تو مولانا آزاد نے فرمایا : مجھ پر معیار الحق کی سنجیدہ اور وزنی بحث کا بہت اثر پڑا اور صاحب ارشاد الحق(انتصار الحق) کا علمی ضعف صاف صاف نظر آگیا ۔ (آزاد کی کہانی آزاد کی زبانی بروایت ملیح آبادی ، ص: 366) مولوی ارشاد حسین صاحب نے دعویٰ کیا تھا کہ میری اس کتاب( انتصار الحق) کا کوئی غیر مقلد عالم جواب نہیں دے سکے گا۔ لیکن یہ ان کی غلط فہمی تھی حضرت میاں صاحب سید محمد نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ کے چار تلامذہ نے انتصار الحق کی تردید میں کتابیں لکھیں جن کی تفصیل حسب ذیل ہے۔ 1. براہین اثنا عشر : یہ کتاب مولانا سید امیر حسن سہسوانی(متوفی 1291ھ) کی تصنیف ہے۔ مولانا سید امیر حسن سہوانی نے ایک دن میں جواب لکھ کر مولانا ابو الحسنات محمد عبد الحی لکھنوی کو بھیجا مولانا سہوانی کو مولانا عبد الحی نے بذریعہ خط یہ اطلاع دی ۔ از محمد عید الحی مولوی صاحب مکرم معظم مجمع البحرین المعقول والمنقول منبع نہرین جامع الفروع الاصول مولوی سید امیر حسن صاحب السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ عنائت نامہ لفف شمامہ مورخہ 20 ماہ رواں بورد وخود ساختہ ممتاز ساختہ برائین اثنا عشر، رسید اغلاط سامی کتب ومولفین دو انتصار لا تعدد ہستند شاید بنظر اختصار بر چند کفایت شدہ ۔ ( الحیاۃ بعد المماۃ ، ص: 295۔296) دوسرا جواب مولانا سید احمد حسن دہلوی (متوفی 1338ھ) صاحب تفسیر احسن التفاسیر نے بنام ’’تلخیص الانظار فیما بنی علیہ الانتصار ‘‘ رقم فرمایا تیسرا جواب مولانا احتشام الدین مراد آبادی (متوفی 1330ھ) نے ’’اختیار الحق‘‘ کے نام سے لکھا ۔ چوتھا جواب مولانا شہود الحق عظیم آبادی (متوفی 1335ھ) کے قلم سے ’’بحر ذخار‘‘ کے نام سے شائع ہوا ۔ یہ چاروں کتابیں استاد پنجاب حافظ عبد المنان محدث وزیر آبادی کے کتب خانہ میں موجود تھیں اور راقم کی نظر سے گزری تھیں راقم نے حضرت میاں صاحب پر ایک مضمون لکھا تھا جو ماہنامہ ’’المعلم‘‘ خانیوال میں شائع ہوا تھا، اس میں راقم نے ان چاروں کتابوں کے صفحات مع سن اشاعت وغیرہ کی نشاندہی کی |