| تھی۔ مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ نے ان چاروں کتابوں کے فوٹواسٹیٹ کرائے تھے معلوم نہیں کہ یہ چاروں نسخے اس وقت الدار الدعوۃ السلفیہ کی لائبریری میں موجود ہیں یا نہیں (المعلم خانیوال کا مکمل فائل امام بخاری یونیورسٹی سیالکوٹ کی لائبریری میں موجودہے) معیار الحق کا نسخہ جو میرے پیش نظر ہے وہ مطبع رحمانی دہلی 1337ھ/1919ء کا مطبوع ہے ۔ پاکستان میں موجود محمد حنیف یزدانی مرحوم نے بھی شائع کیا تھا ، مئی 2007ء میں مولانا محمد یحییٰ گوندلوی مرحوم نے شائع کیا۔ شہادت حضرت شاہ محمد اسمعیل رحمہ اللہ 24 ذی قعدہ 1246ھ مطابق 5 مئی 1831ء کو حضرت امیر المومنین سید احمد شہید کے ہمراہ بمقام بالاکوٹ شہادت سے سرفراز ہوئے؎ بنا کردند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن خدا رحمت کندایں عاشقانِ پاک طینت را (تراجم علمائے حدیث ہند ، ص: 92) شاہ محمد اسحاق دہلوی حضرت شاہ محمد اسحاق بن شیخ محمد افضل فاروقی حضرت شاہ عبد العزیزمحدث دہلوی کے نواسے تھے ۔ 1192ھ بمطابق 1779ء دہلی میں پیدا ہوئے ، ان کا سلسلہ نسب والد اور والدہ کی طرف سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے ۔ آپ نے علوم اسلامیہ کی تکمیل اپنے نانا حضرت شاہ عبدالعزیز محدث ، مولانا شاہ رفیع الدین محدث اور مولانا شاہ عبد القادر محدث رحمہم اللہ سے کی ، فراغت تعلیم کے بعد مدرسہ رحیمیہ دہلی میں مسند تدریس پر فائز ہوئے اور 20سال تک حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی کی زیر نگرانی یہ خدمت انجام دیتے رہے ۔ 1239ھ میں حضرت شاہ عبد العزیز کی وفات کے بعد مدرسہ رحیمیہ کے صدر مدرس مقرر ہوئے اور 1258ھ تک آپ مدرسہ رحیمیہ کے صدر مدرس رہے۔ 1258ھ میں آپ نے اپنے برادر اصغر مولانا شاہ محمد یعقوب دہلوی حرمین شریفین ہجرت کی ۔ حضرت شاہ محمد اسحاق کی ساری زندگی درس وتدریس میں گزری ان کے تلامذہ کی تعداد کا شمار نہیں ، علامہ |