| سید سلیمان ندوی (متوفی 1373ھ) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے درس میں بڑی برکت عطا فرمائی تھی تمام بڑے بڑے علماء ان کے شاگرد تھے ، چند رسالے بھی ان کی تصنیف ہیں غدر کے بعد مکہ معظمہ ہجرت کرکے چلے گئے تھے اور وہاں بھی سلسلہ فیض جاری رہا آخر وہیں 1262ھ میں وفات پائی ان کے تلامذہ میں مولانا احمد علی محدث سہارن پوری ،نواب صدر الدین خاں دہلوی، نواب قطب الدین خاں (جنہوں نے کتب حدیث کا اردو میں ترجمہ کیا ہے) مولانا سید محمد نذیر حسین صاحب بہاری دہلوی ، مولانا عالم علی مراد آبادی، شیخ محمد تھانوی، مولانا شاہ فضل رحمان گنج آبادی، مولانا قاری عبد الرحمان پانی پتی ہیں ۔ (مقالات سلیمان 2/52) مولانا سید ابو الحسن علی ندوی نے بھی اپنی کتاب تاریخ دعوت وعزیمت جلد پنجم میں حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی کے خدمت حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت شاہ محمد اسحاق دہلوی کی تدریس حدیث کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ حدیث کی سب سے بڑی اشاعت حضرت شاہ محمد اسحاق صاحب کے ذریعہ ہوئی جنہوں نے 1258ھ میں مکہ معظمہ ہجرت کی اور ان سے حجاز کے ممتاز علماء نے حدیث کی سندلی ۔ ( تاریخ دعوت وعزیمت 5/359) فضل وکمال حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا حلقہ درس نہ صرف ہندوستان بلکہ عرب تک پھیلا ہوا تھا حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی نے 1176ھ میں وفات پائی تو ان کی مسند ولی اللہ دہلوی پر ان کے سب سے بڑے فرزند ارجمند حضرت شاہ عبد العزیز محدث رونق افروزہوئے حضرت شاہ عبد العزیز محدث کے تینوں چھوٹے بھائی ان سے پہلے اس دنیائے فانی سے رحلت فرما چکے تھے ، تفصیل وفات اس طرح ہے ۔ شاہ عبد الغنی محدث دہلوی (متوفی 1227ھ) شاہ عبد القادر محدث دہلوی ( متوفی 1230ھ) شاہ رفیع الدین محدث دہلوی (متوفی 1233ھ) شاہ عبد العزیز محدث دہلوی کی وفات 1239ھ کے بعد حضرت شاہ محمد اسحاق دہلوی آپ کے جانشین اور خاندان ولی اللہ دہلوی کی مسند علم وارشاد کے وارث ہوئے آپ پورے ہندوستان میں مرجع علماء وفضلاء |