| تھے آپ 19 ویں صدی کے بیشتر خدام حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شیخ واستاد تھے۔ حضرت شاہ محمد اسحاق علم حدیث کے تمام گوشوں میں بہت بلند مقام رکھتے تھے بہت زیادہ متقی، پرہیزگار،تقوی وطہارت کے پیکر، عابد،زاہد،متواضع،کریم النفس، متبع سنت اور صابر وشاکر تھے۔ مولانا سید رئیس احمد جعفر ندوی(متوفی 1968ء) لکھتے ہیں کہ مولانا شاہ محمد اسحاق دہلوی انتہائی متقی اور پرہیزگاربھی تھے اورعبادت وریاضت میں مشغول رہتے تھے اس میں ان کی محویت واستغراق کا یہ عالم تھا کہ حضرت شاہ عبد العزیز جب مدرسے میں تشریف لے جاکر دریافت کرتے کہ اس وقت مدرسے میں کون ہے ؟ اگر خدام کہتے کہ حضور فلاں ہے تو فرماتے خیر، اگر اور(لوگ) کہہ دیتے کہ میاں اسحاق ہیں تو فرماتے کہ مدرسے کی حفاظت کا انتظام کردو، اسحاق کے بھروسے پر نہ رہو اسباب تو اسباب اگر کوئی مدرسے کی دیواریں اُٹھا کر لے جائے گا تب بھی اُسے خبر نہ ہوگی۔ ( بہادر شاہ ظفر اور ان کا عہد ، ص: 281) علم حدیث میں ان کی تبحر علمی کا یہ مقام تھا کہ ان کے غسل جنازہ پر شیخ عبد اللہ سراج مکی نے فرمایا تھا واللہ انہ لو عاش وقرأت علیہ الحدیث طول عمری مانلت ما نالہ اللہ تعالیٰ کی قسم اگر یہ زندہ رہتے اور میں تمام عمر ان سے حدیث پڑھتا رہتا تو اس رتبے کو نہ پہنچ سکتا جس پر یہ پہنچ چکے تھے ۔ ( الحیاۃ بعد المماۃ ، ص: 38) مولانا شاہ محمد اسحاق نے 40 برس تک حدیث کی تدریس فرمائی جس کے باعث آپ نے ’’صدر الحمید‘‘ کے لقب سے مشہور ہوئے جیسا کہ المسوی شرح موطا امام مالک میں منقول ہے ۔ اخبرنا بکتاب المسوٰی من أحادیث الموطا الصدر الحمید مولانا محمد اسحاق بن محمد افضل العمری الدھلوی عن جدہ لانہ من قیّم الطریقۃ( لولی اللھیّہ) الامام عبد العزیز بن ولی اللہ الدھلوی عن أبیہ[1] تصنیف میں مسائل اربعین ، مائۃ مسائل ، تذکرۃ الصیام ہیں ۔ ان کے علاوہ مولوی رحمان علی بریلوی نے ’’فتاوی ہندی‘‘ اور مولوی محمد محسن ترہتی نے ترجمہ مشکوۃ المصابیح کا ذکر کیاہے۔[2] |