Maktaba Wahhabi

133 - 135
وفات مولانا شاہ محمد اسحاق دہلوی نے رجب 1262ھ؁ مطابق 1846ء؁ میں مکہ مکرمہ میں انتقال کیا اور جنت المعلیٰ میں دفن ہوئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون [1] مولانا سید نواب صدیق حسن خاں قنوجی مولانا حکیم سید عبد الحی حسنی (متوفی 1341ھ؁) فرماتے ہیں : علامة الزمان، وترجمان الحديث والقرآن، محيي العلوم العربية، وبدر الأقطار الهندية، السيدالشريف صديق حسن بن أولاد حسن بن أولاد علي الحسيني البخاري القنوجي، صاحب المصنفات الشهيرة والمؤلفات الكثيرة. [2] محترم علامہ الزمان ترجمان حدیث وقرآن، علوم عربیہ کو زندہ کرنے والے،سارے ہند کے چاند،سید شریف صدیق حسن بن اولاد حسن بن اولاد علی حسینی بخاری قنوجی ، مشہور صفات کے مالک اور بہت زیادہ تالیفات والے تھے۔ 9جمادی الاولی 1248ھ؁ اپنے ننھیال بانس بریلی میں پیدا ہوئے تعلیم کا آغاز اپنے برادر اکبر مولانا سید احمد حسن عرشی(متوفی 1277ھ؁ / 1860ء؁) سے کیا اس کے بعد فرخ آباد اور کان پور تشریف لے گئے اور دونوں شہروں کے اساتذہ سے مختلف علوم میں استفادہ کیا ۔1269ھ؁ میں دہلی تشریف لائے اور صدر الافاضل مفتی صدر الدین آزردہ(متوفی 1285ھ؁/1868ء؁) کی خدمت میں ایک سال 8 ماہ رہ کر علوم عقلیہ ونقلیہ میں اکتساب فیض کیا علاوہ ازیں ان کے شیخ زین العابدین انصاری ، شیخ عبد الحق بنارسی تلمیذ امام شوکانی ، شیخ یحییٰ بن محمد اکاذمی،علامہ سید نعمان خیر الدین آلوسی(مفتی بغداد) علامہ شیخ حسین بن محسن انصاری اور مولانا شاہ محمد یعقوب بن مولانا شیخ محمد افضل فاروقی سے بذریعہ خط سے حدیث میں سند واجازت حاصل کی ۔ [3] 21 سال کی عمر میں علوم متداولہ سے فراغت حاصل کرکے دہلی سے اپنے وطن قنوج تشریف لے گئے اور قنوج میں کچھ عرصہ قیام کے بعد بسلسلہ تلاش ھامش ریاست بھوپال چلے گئے بھوپال کے آپ نے تین سفر کیے اور آخر ان کا نکاح نواب شاہجہان بیگم صاحبہ سے ہوا جو بیوہ ہوچکی تھیں انہوں نے نواب صاحب کی دیانت
Flag Counter