Maktaba Wahhabi

172 - 264
اسی طرح ابن أشعث کہ جنہوں نے عراق میں عبد الملک بن مروان کے خلاف خروج کیا اور اسی طرح ابن مہلب کہ جنہوں نے خراسان میں اس کے بیٹے ولید بن عبد الملک کے خلاف خروج کیا اور اسی طرح ابو مسلم کہ جنہوں نے خراسان میں حکمرانوں کے خلاف خروج کیااور وہ لوگ کہ جنہوں نے مدینہ و بصرہ میں ابو جعفر منصور کے خلاف خروج کیا اور اس طرح کے اور لوگ بھی تھے۔ان سب کے خروج کا نتیجہ یاتو یہ تھا کہ یہ لوگ مغلوب ہوگئے یا پھر وقتی طور پر غالب آ گئے لیکن جلد ہی ان کی حکمرانی ختم بھی ہو گئی۔پس اس اعتبار سے ان کا انجام کچھ بھی نہ تھا۔عبد اللہ بن علی اور ابو مسلم نے مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو قتل کیا اور ان دونوں کو ابو جعفر منصور نے قتل کر دیا۔جہاں تک اہل مدینہ یاابن اشعث یا ابن مہلب وغیرہ کا معاملہ ہے پس انہوں نے اور ان کے پیروکاروں نے شکست کھائی ۔پس نہ تو یہ لوگ دین کو قائم کر سکے اور نہ ہی اپنی دنیا کو بچا سکے۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کبھی بھی ایسے کام کا حکم نہیں دیتے کہ جس میں نہ تو دین کی اصلاح ہو اور نہ ہی دنیا کی‘ چاہے اس کے کرنے والے اللہ کے ولی‘ جنتی اور متقی ہی کیوں نہ ہوں ۔پس یہ(خروج کرنے والے) حضرت علی‘ عائشہ‘ طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم سے زیادہ افضل نہیں ہو سکتے اور ان لوگوں کے جنتی‘ متقی اور ولی اللہ ہونے کے باوجود ان کے باہمی قتال کی تعریف نہیں کی گئی حالانکہ یہ صحابہ رضی اللہ عنہم اللہ کے ہاں بہت بلند مرتبہ رکھتے ہیں اور ان کی نیت بھی دوسروں کی نسبت زیادہ خالص تھی۔اسی طرح اہل مدینہ کے خروج اور ابن اشعث کے اصحاب میں بھی ایسے لوگ موجود تھے جو اصحاب علم و فضل میں سے تھے اور دین و اخلاق کے بلند مرتبہ پر فائز تھے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ان سب سے درگز رفرمائے۔‘‘ مذکورہ بالا کوہم ایک سادہ سی مثال سے یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ ایک تھانیدار نے ایک بے گناہ آدمی زید کو کسی جرم میں اندر کر دیا۔اب اس بے گناہ نے جب تھانیدار سے اپنا جرم پوچھاتو اس نے اسے ایک تھپڑرسید کر دیا۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس مثال میں تھانیدار ظالم ہے اور زید مظلوم ہے۔اب زید کے تین دوست ہیں ۔ایک دوست کا کہنا یہ ہے کہ زید کو اپنے اوپر کی جانے والی زیادتی کا فوراً بدلہ لیتے ہوئے تھانیدار کو بھی ایک تھپڑ رسید کر دینا چاہیے جبکہ دوسرے دوست کا کہنا یہ ہے کہ زید کو صبر کرنا چاہیے کیونکہ اگر اس نے تھانیدار کو تھپڑ رسید کیا تو تھانیدار کی طرف سے اس کا جواب دس بیس تھپڑوں ‘
Flag Counter