Maktaba Wahhabi

240 - 384
ہے کہ ان لوگوں کی باتیں اگر لباس صادق سے آراستہ ہیں، تو اللہ تعالیٰ مجھے انابت اور استغفار کی توفیق بخشے اور میرے قصور معاف فرمائے اور اگر وہ لوگ کاذب اور مفتری ہیں، تو اللہ ان کے گناہوں کو معاف فرمائے۔ میں اپنے اعداء و حساد کو نام بنام پہچانتا ہوں۔ اور ان کے نفاق و بہتان کو خوب جانتا ہوں لیکن ان کے اسماء کی تعیین اس لیے نہیں کرتا کہ اس سے فتنوں کے بھڑکنے کا اندیشہ ہے ؎ مصلحت نیست کہ از پردہ برون افتدکار ورنہ در مجلسِ رنداں خبرے نیست کہ نیست ہجومِ مصائب میں ایک غم خوار کا خط: ایک جم غفیر نے یہ بھی فکر و تدبیر کی کہ جس طرح ممکن ہو، مجھے قید، اخراج، حبس دوام یا قتل کی سزا ملے اور ہنوز وہ اپنی کارستانی و ایذاء رسانی سے باز نہیں آئے، اور معلوم ہوتا ہے کہ جب تک میں اس جگہ زندہ اور موجود ہوں باز نہیں آئیں گے: ﴿ أُفَوِّضُ أَمْرِي إِلَى اللَّـهِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ[1] اس کے باوجود میں ان میں سے کسی کے درپے آزار نہیں ہوں۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ: ’’اگر سارا جہان تجھے نفع یا نقصان پہنچانے پر مجتمع ہو جائے تو جب تک اللہ نہ چاہے تجھے کچھ نفع و نقصان نہیں پہنچا سکتا۔‘‘ مجھے اس ہنگامہ میں اس حدیث کے صدق کا بخوبی تجربہ ہو گیا ہے۔ وللہ الحمد!
Flag Counter