Maktaba Wahhabi

277 - 384
نزدیک بڑا مخلص وہی ہے جو ان کے ہر مکروہ فعل کو ممدوح قرار دے۔ میں اگر محض ملازم یا ہم رتبہ زوج ہوتا تو ان اثقال کو کبھی بھی نہ اُٹھاتا۔ لیکن ناگہاں ایسے جال میں پھنس گیا کہ اس سے رہائی میرے اختیار میں نہ رہی۔ ﴿ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ[1] کیونکر اس کی نگہ ناز سے جینا ہو گا زہر دے اس پہ یہ تاکید کہ پینا ہو گا چین دیتے نہیں وہ داغ کسی طرح مجھے میں جو مرتا ہوں تو کہتے ہیں کہ جینا ہو گا لیکن میں اب پانچ برس سے بحمدہٖ تعالیٰ کل امور داخلہ و خارجہ سے علیحدہ ہوں۔ ولله الحمد والمنة! دنیا میں معیار: میں نے امانت، دیانت، عفت اور صدق کو اپنا اوڑھنا، بچھونا بنا لیا جیسا کہ ہر مومن، دیندار اور مسلم پرہیزگار پر واجب ہے۔ جس طرح میرا یہ فعل اہل بیت کو ناگوار محسوس ہوا۔ اسی طرح جملہ رعایا پر بھی نہایت گراں گزرا۔ اگر میں حرام کار، مکار، دغا باز، چالاک، سفاک، خائن، خود غرض اور بندہِ دنیا ہوتا تو سب کے نزدیک مقبول اور ہر دلعزیز ہوتا۔ کیونکہ میں یہ دیکھتا ہوں کہ جو اخوان و ارکان ان مذکورہ اوصاف کے ساتھ متصف ہیں، وہ مجھ سے زیادہ عزیز اور کامیاب ہیں۔ اور ان کا جو پاسِ خاطر ہے وہ میرا نہیں، اور جو قدر ان کی ہے وہ میری نہیں۔ لیکن میں اس مشکل کو بھی خدا کا ایک احسان سمجھ کر اس کا شکر ادا کرتا ہوں، اور جانتا ہوں کہ وقفہ زندگی بہت کم ہے۔ آنکھ بند ہوتے ہی ہر کسی کو
Flag Counter