Maktaba Wahhabi

255 - 384
امام شوکانی کی تقلید کی تہمت: اہلِ تقلید نے مجھ پر امام محمد بن علی شوکانی رحمہ اللہ کی تقلید کی تہمت لگائی کہ میں اپنے دین میں ان کا مقلد ہوں۔ اس تہمت میں طرفہ تماشا یہ ہے کہ جس طرح ائمہ اربعہ، مجتہدین اور دیگر سلف صالحین نے تقلید سے منع کیا ہے، اسی طرح یا اس سے بھی زیادہ ردِ تقلید میں شوکانی رحمہ اللہ نے میدانِ مباحثہ میں جولانی دکھائی ہے اور وہ خود ایک مستقل مجتہد تھے۔ اس کے باوجود ان کی فقہ مذاہب اربعہ اہل سنت کے دائرہ سے خارج نہیں ہے۔ سوائے ایک دو خاص مسائل کے جن کی بنیاد محض رائے مجرد اور اجتہاد نا سدید پر نہیں بلکہ نص صحیح اور دلیل صریح پر ہے۔ پھر ان مسائل میں بھی وہ منفرد نہیں بلکہ سلف میں سے کئی حضرات ان کے قائل ہیں۔ پھر اس نہی کے باوجود میرا یا کسی اور کا ان کی تقلید کرنا چہ معنی؟ میں نے اپنی تالیفات میں کئی مسائل میں ان کی مخالفت بھی کی ہے۔ کیونکہ مجھے ان کی موافقت میں کوئی واضح دلیل نہیں مل سکی۔ اگرچہ یہ بھی میرے عبور کا قصور ہے، ان کے علم و فضل کا فتور نہیں۔ وہ تو ایک محدث خالص، مفسر بحت، تابعِ دلیل، تارکِ قیل و قال، قاضی القضاۃ صنعاء و یمن، نقشبندی طریقہ کے حامل اور مذہبِ زیدیہ کی تردید کرنے والے تھے۔ اُنہوں نے اصول و فروعِ اسلام کو نصوص و براہین صحیحہ پر منطبق کیا ہے۔ راجح و مرجوح کا پتہ دیا ہے۔ اور اپنی رائے کو مدون نہیں کیا، مقلد تو رائے کی تقلید کرنے والے کو کہتے ہیں، نہ کہ اسے جو روایت قبول کرنے والا ہو۔ میں نے اپنی کتب میں ان سے دلائل اور روایاتِ صحیحہ کو اسی طرح لیا ہے جس طرح اکثر مقامات پر سابق و لاحق علماء حنفیہ سے اخذ کیا ہے، جو مقامِ تحقیق و تقویٰ پر فائز تھے۔ یہ ان کی تقلید نہیں بلکہ عین اتباعِ حدیث و آیت
Flag Counter