|
(۲)کفَّارات مطلقہ:
یعنی وہ اعمال صالحہ جن کی شرع شریف نے کوئی تحدید مقرر نہیں فرمائی جیساکہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا:
((فِتْنَۃُ الرَّجُلِ فِیْ اَھْلِہٖ وَمَا لَہٖ وَدَوْلَتِہٖ یُکَفِّرُھَا الصَّلاۃُ وَصِیَامُ وَالصَّدَقَۃُ وَالْاَمْرُ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَھْیُ الْمُنْکَرِ۔))
’’انسان جب اپنے اہل و عیال اور مال و اولاد کے فتنہ میں مبتلا ہو جاتا ہے تونماز،روزہ، صدقہ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اس کا کفارہ بن جاتے ہیں ۔‘‘
اور اس بات پر آیاتِ قرآنیہ اور وہ احادیثِ صحیحہ پوری طرح دلالت کرتی ہے جن میں ذکر آیا ہے کہ پانچوں نمازیں ، جمعہ، روزے،حج اور دیگر وہ اعمال جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ :
((مَنْ قَالَ کَذَا وَعَمِلَ کَذَا غُفِرَلَہٗ اَوْ غُفِرَلَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ۔))
’’ جو شخص یہ کلمہ کہے، یا عمل کرے، اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں یا اس کے گزشتہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں ۔‘‘
گناہوں کاکفارہ بنتے ہیں اور اس قسم کے اعمال سنن و فضائلِ اعمال کی کتابوں میں متلاشی کو بہت کثرت سے ملیں گے۔
رسومِ جاہلیت اور خصائلِ یہود و نصاریٰ:
انسان کو مذکورہ اعمالِ مکفرہ کی جانب پوری توجہ مبذول کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ کیونکہ آدمی جب زمانہ بلوغت کے مجنونانہ دور سے گزر رہا ہوتا ہے توقسم قسم کی ناشائستہ حرکات کے ارتکاب کے باعث ان کے کفاراتِ یعنی توبہ و استغفار اور اعمالِ صالحہ وغیرہ کی از حد ضرورت ہوتی ہے، خصوصاً موجودہ دور، اور اسی قسم کے دوسرے زمانہ ہائے فترت میں جبکہ وحی رسالت کا سلسلہ منقطع ہو نے کے باعث چند وجوہات سے ایام جاہلیت کا پورا پورا تشبہ موجود ہوتا ہے جبکہ اہلِ علم و متدین بزرگوں کے ماحول میں تربیت پانے والاشخص بھی امورِ
|