|
کے سوا ناممکن ہے۔ چنانچہ کسی شاعر کا شعر ہے:
قَدْ ھیّأُوکَ لِامْرٍ لَوْ فَطِئْتَ لَہٗ
فَارْبِأْبِنَفْسِکَ اَنْ تَرْعیٰ مَعَ الْھَمَلِ
’’ارباب ِ قضا و قدر نے تجھے عظیم الشان کاموں کے لیے پیدا کیا ہے۔ کاش تمہیں عقل ہو تو ردی کاموں اور ردی لوگوں سے اپنے نفس کو بچانے کی کوشش کرو۔‘‘
انسان اور حیوان اور ان کا باہمی تفاوت:
۱۰۔ انسان کو ایسی عادت نہیں اختیار کرنی چاہیے جس کے باعث وہ مقامِ انسانیت سے گر جائے اور چوپایوں سے بھی بدتر ہو جائے۔ کیونکہ اپنے نفع و نقصان اور مضار و منافع کی توحیوانوں کو بھی کچھ نہ کچھ تمیز ہوتی ہے اور وہ جانتے ہیں کہ کون سی چیز ہمارے لیے مفید و کارآمد ہے اور کون سی چیز ہمارے لیے غیر مفید و نقصان رساں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایک نافع اور فائدہ مند چیز کو غیر مفید اور نقصان دہ چیز پر ترجیح دیتے ہیں اور اسی انسان کو عقل و شعور عطا فرمایا گیا ، تو اگر وہ اتنا عقل مند و باشعور ہو کر بھی اپنے فائدہ و نقصان کی شناخت اور نافع و ضار کی تمیز نہ کر سکے،یا تمیز تو کر سکے مگر تمیز کے باوجود نقصان دہ چیز کو ہی پسند اور اختیار کرے تو یقینا اس کی حالت حیوان سے بھی بدتر ہو گی۔
حیوان سے بدتر ہونے کی دلیل:
اس کی دلیل آپ اس بات سے سمجھ سکتے ہیں کہ انسان کو انتہائی عیش و خوشی اور بے فکری و بے غمی کے باوجود وہ لذت اور سرور حاصل نہیں ہوتا جو ایک چوپائے اور حیوان کو کھانے پینے اور خواہشِ نفسانی کے پورا کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مذبح کو جاتے ہوئے بھی اپنی خواہشات میں بدستور منہمک ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنے انجام سے غافل اور اپنی عاقبت سے بے علم ہوتا ہے۔ اس کے بالمقابل ایک انسان کو دیکھیے، وہ اس قدر فوائد و منافع حاصل کرلیتا ہے جو حیوان کو میسر ہونا محال ہیں ، کیونکہ انسان کی قوتِ فکریہ کو خواہشات کے
|