|
شہوات سے صبر کرنا ہے۔
صحبت ِاولیاء سے وحشت:
۳۷۔ خواہش پرست انسان جس طرح دنیا میں اہلِ تقویٰ و فرقہ ناجیہ سے گریز کرتا ہے اور ان کی صحبت و مجلس سے اس کے دل پر دہشت و بے ہوشی طاری ہوجاتی ہے ،بعینہٖ اسی طرح آخرت میں بھی اس کے دل پر اتباعِ خواہشات کے باعث قبر سے اٹھتے ہوئے دہشت اور بے ہوشی چھائی ہو گی اور ناجی لوگوں کے ساتھ چلنے سے معذور ہو گا۔
بدمستیِ شہوات سے قیامت کوبے ہوشی:
محمد بن الورد رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اللہ عزوجل نے ایک دن ایسا مقرر کررکھا ہے جس کے شر اور مصیبت سے خواہش پرست انسان کی نجات مشکل سے ہی ہو سکے گی اور قبروں سے اٹھنے کے باعث قیامت کو دیر تک وہی لوگ بدحواس وبے ہوش رہیں گے جو دنیا کے اندر شہوات میں ہمیشہ منہمک و بدمست رہا کرتے تھے اور میدانِ طلب میں عقل جب کود پڑتی ہے تو مطلوبات کا بیشتر حصہ اسی شخص کو حاصل ہوتا ہے جو صبر کے ساتھ عقل کا توازن قائم رکھے۔ عقل تو ایک معدن ہے اور فکر اس کا معتمد و معاون ہے۔
خواہش پرستی اور عزائم کی کمزوری:
۳۸۔ خواہش پرستی سے ہی انسان کے عزائم سست وکمزور اور اس کی مخالفت سے قوی و مضبوط ہوتے ہیں ،عزائم ہی ایک ایسی سواری ہے جس پر سوار ہو کر انسان اپنے خدا اور دارالآخرۃ تک پہنچ سکتا ہے ،اور جب سواری ہی بے کار ہو گئی، تو مسافر کا منزلِ مقصود تک پہنچنا معلوم؟
زیادہ صحیح العزائم کون ہے؟
یحییٰ بن معاذ سے دریافت کیا گیا: کون شخص زیادہ صحیح العزم ہوتا ہے ؟فرمایا ،جسے خواہشات پر پورا کنٹرول ہو۔
|