|
’’اے اللہ! ہمیں جس طرح مکہ محبوب ہے اسی طرح بلکہ اس سے زیادہ مدینہ ہمیں محبوب بنا دے، اسے ہمارے لیے موزوں بنا دے، ہمارے لیے اس کے صاع اور مد (وزن کے پیمانے) میں برکت فرما، اور اس کے بخار کو جحفہ کی طرف منتقل فرما دے۔‘‘
خطابی ودیگر نے فرمایا: ’’… اس میں مسلمانوں کے لیے صحت، ان کے شہروں کی بہتری، ان میں برکت اور ان سے بیماریوں اور سختیوں کے ٹل جانے کے متعلق دعا ہے، اور یہ تمام علماء کا مذہب ہے۔
قاضی عیاض نے فرمایا: یہ بعض نام نہاد صوفیوں کے قول کے خلاف ہے کہ دعا توکل و رضا میں نقص ہے، اور یہ کہ اسے ترک کرنا چاہیے! اور یہ معتزلہ کے قول کے خلاف ہے کہ جب تقدیر میں سب کچھ لکھا جا چکا ہے تو پھر دعا کرنے میں کیا فائدہ ہے…‘‘
۵:… صوفیاء اور ذکر میں رقص (دھمال):
ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’الصحیحۃ‘‘ (۳/۳۰۶۔ ۳۰۷) میں حدیث رقم (۱۳۱۷) میں بیان کیا:آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’مفردون‘‘ سبقت لے گئے: انہوں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! ’’مفردون‘‘ کون ہیں؟ آپ نے فرمایا: ’’وہ اللہ عزوجل کے ذکر میں گم ہو جاتے ہیں۔‘‘
یھترون یعنی وہ فریفتہ ہو جاتے ہیں، ابن الاثیر نے بیان کیا:
کہا جاتا ہے: ’’أھتیر فلاں بکذا، واستھتر فھو مھتر بہ و مستھتر‘‘
یعنی: وہ اس کا دل دادہ ہے، اس کے بغیر کسی کی بات کرتا ہے نہ کوئی اور کام کرتا ہے۔‘‘
تنبیہ:… اس حدیث کی تخریج کرنے والے کا ایک دعوی ہے کہ ’’الشعب‘‘ میں یہ لفظ اس طرح: ’’یھتزون‘‘ ’زاء کے ساتھ‘ ہے۔ پس اسے ’’یھتزون‘‘ پڑھا جائے گا، تو میں نے فوراً اس کی تخریج اور اس لفظ کے اعراب اور نکتوں کی طرف توجہ کی، مجھے خدشہ تھا کہ دھمال ڈالنے والے بعض صوفیاء اس سے استدلال کرتے ہوئے ذکر کرتے ہوئے جو دائیں بائیں جھومتے ہیں اسے جائز قرار نہ دے لیں۔ حالانکہ انہیں علم نہیں یا وہ ویسے ہی لا علمی کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ لفظ محرف (اس میں تبدیلی کی گئی) ہے، (یہ لفظ ’’یھتزون‘‘ زاء کے ساتھ نہیں بلکہ راء کے ساتھ ’’یھترون‘‘ ہے) کبھی اس پر شرح مسلم للنووی میں جو بیان ہوا ہے وہ ان کی معاونت کرتا ہے: ایک روایت ہے: ((ھم الذین اھتزوا فی ذکرا للہ۔))وہ اللہ کے ذکر کے دل دادہ ہیں۔‘‘ اور اسی طرح ’’صحیح مسلم، ط: استنبول‘‘ کے حاشیے میں امام نووی سے منقول ہے:
|