Maktaba Wahhabi

520 - 756
۷۸: نماز جنازہ میں سلام نہ پھیرنا: [1] ’’احکام الجنائز‘‘ (۳۱۶/ ۷۸)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۱/ ۷۸) ۷۹: نماز جنازہ کے بعد کسی کا بلند آواز سے یہ کہنا: تم اس کے متعلق کیا گواہی دیتے ہو؟ تو حاضرین بھی اسی طرح (بلند آواز سے) کہتے ہیں۔ وہ صالح شخص تھا: ’’الابداع‘‘ (۱۰۸)، ’’السنن‘‘ (۶۶)، ’’أحکام الجنائز‘‘ (۳۱۶/ ۷۹)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۱/ ۷۹)۔ مسئلے کی تفصیل: ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’احکام الجنائز‘‘ (ص ۶۲) میں فرمایا: ’’رہا بعض لوگوں کا نماز جنازہ کے بعد کہنا: ’’تم اس (میت) کے بارے میں کیا گواہی دیتے ہو، اس کے متعلق خیر کی گواہی دو۔‘‘ وہ اسی طرح جواب دیتے ہیں: وہ صالح ہے، یا اہل خیر میں سے ہے، اور اس طرح کی بات، اس حدیث[2] سے وہ قطعاً مراد نہیں، بلکہ وہ ایک قبیح بدعت ہے، کیونکہ وہ سلف کے عمل میں سے نہیں، کیونکہ جو یہ گواہی دیتے ہیں وہ غالب طور پر میت کو جانتے پہچانتے نہیں ہوتے، بلکہ بسا اوقات وہ اس کے متعلق جو جانتے ہوتے ہیں اس کے خلاف گواہی دیتے ہیں، بس وہ یہ گواہی خیر و بھلائی کی گواہی طلب کرنے کی رغبت کے پیش نظر دیتے ہیں، ان سے گمان کرتے ہوئے کہ یہ میت کو فائدہ پہنچاتی ہے، اور وہ یہ نہیں جانتے کہ نفع مند گواہی وہی ہے جو اس حقیقت کے موافق ہو جس کے لیے گواہی دی جا رہی ہے۔‘‘ اور ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’الصحیحۃ‘‘ (۳/ ۲۹۶) میں بیان کیا: ’’بعض لوگوں کا جنازے کے بعد کہنا: ’’تم اس کے متعلق کیسی گواہی دیتے ہو؟ اس کے لیے خیر کی گواہی دو۔‘‘ یہ کہنا قبیح بدعت ہے۔‘‘ ششم:… دفن اور اس سے متصل بدعات ۸۰: جنازے کے قبرستان پہنچنے پر اسے دفن کرنے سے پہلے بھینس ذبح کرنا اور گوشت حاضرین میں تقسیم کرنا:
Flag Counter