Maktaba Wahhabi

728 - 756
۷: عاشوراء کے دن سرمہ لگانا اور تیل و خوشبو لگانا ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’الضعیفۃ‘‘ (۲/۸۹) میں بیان کیا: ملا (علی) قاری نے اپنی ’’موضوعات‘‘ (ص۱۲۲) میں ابن القیم سے نقل کیا [1] کہ انہوں نے کہا: ’’رہیں عاشوراء کے دن سرمہ لگانے، تیل اور خوشبو لگانے والی احادیث تو وہ کذاب لوگوں کی وضع کردہ ہیں، دوسروں نے ان کے مقابلے میں اس دن کو غم و خزن کا دن قرار دیا، دونوں گروہ بدعتی، سنت سے خارج ہیں، جبکہ اہل السنۃ وہ کرتے ہیں جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے اور وہ روزہ ہے، اور وہ اس چیز سے اجتناب کرتے ہیں جس کا شیطان نے حکم دیا ہے اور وہ بدعات ہیں۔‘‘ ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’صحیح الترغیب والترھیب‘‘ (۱/۵۹۳) میں حدیث رقم (۱۰۱۷) کے تحت بیان کیا: لغت میں مشہور ہے کہ ’’عاشوراء‘‘ اور ’’تاسوعاء‘‘ مد کے ساتھ ہیں، اور وہ دونوں قصر کے ساتھ (مد کے بغیر) بھی بیان کیے گئے ہیں، علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ عاشوراء کا روزہ اب سنت ہے واجب نہیں، رہا اس دن (اہل و عیال پر) خرچ کرنا اور سرمہ لگانا تو وہ بدعات میں سے ہے۔ دیکھیں: مقدمہ ’’ صحیح الترغیب والترھیب‘‘(۱/۵۹) ۸: عاشوراء کے دن اہل و عیال پر خوب خرچ کرنا ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’تمام المنۃ‘‘ (ص۴۱۲) میں بیان کیا: اسی لیے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے جزم کے ساتھ فرمایا کہ یہ روایت جھوٹ ہے، [2] اور ذکر کیا کہ اس بارے امام احمد سے پوچھا گیا، تو انہوں نے اسے کچھ نہ سمجھا، اوراس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ سلف میں سے کسی ایک نے بھی عاشوراء کے دن خوب خرچ کرنے کو مستحب قرار نہیں دیا، خیر القرون میں ان احادیث میں سے کچھ بھی معروف نہ تھا، اس بارے میں ’’الفتاوی‘‘ (۲/۲۴۸۔۲۵۶) میں اس قول کو تفصیل سے بیان کر دیا گیا،
Flag Counter