Maktaba Wahhabi

581 - 756
فصل:قبروں پر مساجد بنانا کبیرہ گناہ ہے قبروں کو سجدہ گاہ بنانے، مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کو آپ کی مسجد میں داخل کرنے اور قبروں پر بنائی گئی مساجد میں نماز پڑھنے کے مسئلے کی تفصیل ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’تحذیر الساجد‘‘ (ص۳۳۔۳۷) میں فرمایا: …جو بھی ان احادیث کریمہ پر غور و فکر کرے گا، اس پر بلاشک یہ عیاں ہوجائے گا کہ قبروں پر مساجد بنانا حرام ہے، بلکہ کبیرہ گناہ ہے، کیونکہ اس بارے میں وارد لعنت نے مخالفین کا وصف بیان کیا ہے کہ وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہاں بدترین مخلوق ہیں اور یہ ممکن نہیں کہ وہ (لعنت) کسی ایسے شخص کے بارے میں ہو جو کسی کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہیں کرتا جیسا کہ ظاہر ہے۔ اس بارے میں علماء کے مذاہب چاروں مذاہب کا اس کی تحریم پر اتفاق ہے، ان میں سے کسی نے صراحت سے کہا ہے کہ وہ کبیرہ گناہ ہے، اس بارے میں مذاہب کی تفصیل پیش خدمت ہے: ۱:… شافعیہ کا مذہب کہ ’’وہ کبیرہ گناہ ہے‘‘ فقیہ ابن حجر ہیتمی نے ’’الزواجر عن اقتراف الکبائر‘‘ (۱/۱۲۰) میں بیان کیا: ’’کبیرہ گناہ نمبر ۹۳، ۹۴، ۹۵، ۹۶، ۹۷ اور ۹۸: قبروں کو سجدہ گاہ بنانا وہاں چراغاں کرنا، انھیں اوثان (صنم/ بت) بنانا، ان کا طواف کرنا، ان کا استلام کرنا (انہیں چھونا) اور ان کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنا۔‘‘ پھر انھوں نے بعض گزشتہ احادیث وغیرہ پیش کیں، پھر (ص۱۱۱) فرمایا: ’’تنبیہ:… انھوں نے ان چھ کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے جو کہ بعض شوافع کے کلام میں واقع ہوئے ہیں، گویا کہ انھوں نے اسے اس سے اخذ کیا ہے جسے میں نے احادیث سے ذکر کیا ہے، قبر کو سجدہ گاہ بنانے کی (ممانعت کی) وجہ تو واضح ہے، کیونکہ ایسے شخص پر لعنت کی گئی ہے جس نے اپنے انبیاء کی قبروں کے ساتھ ایسا کیا (کہ انھیں سجدہ گاہ بنایا)، اور اپنے صلحاء کی قبروں کے ساتھ ایسا کرنے والے کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں بدترین مخلوق قرار دیا اور اس میں ہمیں ڈرایا گیا ہے جیسا کہ
Flag Counter