|
((لَا تَقُومُ السَّاعَۃُ عَلَی اَحَدٍ یَقُوْلُ: لَااِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ۔))
’’جو شخص لا الہ الا اللہ کہتا ہے اس پر قیامت قائم نہ ہو گی۔‘‘
اصل کے حاشیے میں ہے: شیخ الاسلام ابن حجر رحمہ اللہ کے خط سے: اسے مسلم نے عبدالرزاق کے طریق سے معمر عن ثابت البنانی کے حوالے سے انس سے روایت کیا، پس اس کے استدراک کی کوئی حاجت نہیں، لیکن اس کے لفظ: ’’اللہ اللہ‘‘
میں کہتا ہوں: مؤلف کی روایت انتہائی اہم ہے، کیونکہ وہ صحیح مسلم کی روایت سے مراد کو واضح کرتی ہے، اسی لیے مؤلف نے اس کا ادراک کیا ہے پس اس نے اچھا کیا، جزاہ اللہ خیراً۔ وہ صوفیت کے طرق اور ان کے مسلم کی روایت کے ذریعے لفظ مفرد کے ساتھ ذکر پر استدلال کو ختم کرتی ہے۔
تقریباً پچاس سال سے دمشق میں نقشبندیہ سلسلے کے ایک پیر طریقت، جو ابھی زندہ ہے، سے میرا مناقشہ جاری رہا، جب میں نے یہ الفاظ مع شرح اسے بیان کیے تو اس نے اس سے استدلال کے صحیح نہ ہونے کا اعتراف کیا، یہاں اس کے بیان کی کوئی گنجائش نہیں۔
۲: لفظ: ’’آہ،آہ…‘‘ کے ساتھ اللہ کا ذکر:
ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے حدیث [1] رقم (۲۹۸۵) کے تحت جو کہ ’’ضعیف الجامع الصغیر‘‘ میں ہے، بیان کیا:
مناوی نے بیان کیا: ’’یعنی لفظ ’’آہ‘‘ اس کے اسماء میں سے ہے۔ لیکن یہ کسی صحیح حدیث میں وارد ہے نہ کسی حسن میں، اور اللہ تعالیٰ کے اسماء توقیفی ہیں۔‘‘
میں کہتا ہوں[2] : اس میں ان صوفیاء کی تردید ہے جو لفظ’’آہ، آہ…‘‘ کے ساتھ اللہ کا ذکر کرتے ہیں! اس لیے کہ وہ اصلاً مروی نہیں!
۳: ذکر وتسبیح اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کو کسی ایسی تعداد سے مقید کرنا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشروع قرار نہیں دیا: [3]
((نقد نصوص حدیثیۃ)) (ص۱۰)
|