|
میں ذکر کیا جو مؤذن کو سننے والے کے لیے مستحب ہے کہ وہ اسے کہے! لہٰذا معاملہ محض رائے پر قائم استحسان سے اس استحباب کی طرف منتقل ہو گیا جو کہ حکم شرعی ہے، اس کے لیے نص کا ہونا ضروری ہے!
حافظ نے ’’التلخیص‘‘ (۷۹) میں اس حدیث سے، جسے رافعی نے ذکر کیا، استدلال کیا اور اس کے بعد فرمایا:
’’وہ ضعیف ہے، اور اس میں جو اضافہ [1] ہے اس کی کوئی اصل نہیں، اسی طرح اس کی بھی کوئی اصل نہیں جو انہوں نے ’’الصلوۃ خیر من النوم‘‘ (نماز نیند سے بہتر ہے) کے بارے میں ذکر کی ہے۔‘‘
میں نے کہا: یعنی: (’’الصلوۃ خیر من النوم‘‘ کے جواب میں) اس کا کہنا: ’’صَدَقْتَ وَ بَرَرْتَ‘‘ (یہ کہنے کی کوئی اصل نہیں۔)
ہمارے شیخ نے ’’الثمر المستطاب‘‘ (۱/۲۱۶) میں بیان کیا:
رہی ابو امامہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی کی روایت:کہ بلال نے اقامت شروع کی، جب انہوں یہ کہا: ’’قد قامت الصلوۃ‘‘، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اقامھا اللہ و أدامھا‘‘، اور باقی اقامت میں اذان کے بارے میں عمر رضی اللہ عنہ کی روایت کی مانند کہا۔
وہ روایت بالاتفاق ضعیف ہے۔
۱۱… مؤذن کے ’’الصلوۃ خیر من النوم‘‘ کے کہنے پر ’’صَدَقْتَ وَ بَرَرْتَ‘‘ کہنا بدعت ہے[2]
’’الارواء‘‘ (۱/۲۵۹)
۱۲… نماز فجر کی دوسری اذان میں تثویب [3] کہنا بدعت اور سنت کے خلاف ہے
ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’تمام المنۃ‘‘ (ص۱۴۶۔ ۱۴۸) میں فرمایا:
صبح (نماز فجر) کے لیے اذان اوّل میں ’’تثویب‘‘ (الصلاۃ خیر من النوم) کہنا مشروع ہے، جو کہ نماز فجر کا وقت شروع ہونے سے تقریباً پندرہ منٹ پہلے ہوتی ہے، جیسا کہ ابن عمر کی روایت میں ہے، انہوں نے فرمایا: ’’اذان اوّل میں ’’حی علی الفلاح‘‘ کہنے کے بعد ’’الصلاۃ خیر من النوم‘‘ دو مرتبہ کہا جاتا تھا‘‘ (بیہقی: ۱/۴۲۳) اسی طرح طحاوی نے ’’شرح المعانی‘‘ (۱/۸۲) میں روایت کیا، اور اس کی اسناد
|