Maktaba Wahhabi

416 - 756
طرح وائل بن حجر کی روایت پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا، اور اس میں ہے: ’’اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کرنے کا ارادہ فرمایا تو آپ نے (کپڑے میں سے) ہاتھ نکالے، انہیں اٹھایا/ بلند کیا اور اللّٰہ اکبر کہا، پھر رکوع کیا، جب آپ نے رکوع سے سر اٹھایا تو ہاتھ اٹھائے، پھر اللّٰہ اکبر کہا تو سجدہ کیا، پھراپنی دونوں ہتھیلیوں/ ہاتھوں کے درمیان اپنا چہرہ رکھا۔‘‘ ابوداؤد نے یہ اضافہ نقل کیا: اور جب سجدوں سے سر اٹھایا توبھی ہاتھ اٹھائے۔ میں [1] نے کہا: یہ اضافہ اہم اور صحیح ہے، اس کے بہت سے شواہد ہیں، پس اہل السنہ اس پر عمل کرنے کو پسند کرنے والوں کو اس کے احیاء کی طرف توجہ کرنی چاہیے، اس حدیث میں اس طرف قوی اشارہ ہے کہ رکوع کے بعد ہاتھ باندھنے کے متعلق کوئی اصل نہیں، اس لیے کہ وائل (صحابی) نے اسے ذکر نہیں کیا، اور اگر انہوں نے اسے دیکھا ہوتا تو اس کا ذکر کرتے جیسا کہ انہوں نے تین جگہوں پر رفع الیدین کرنے کا ذکر کیا ہے، جیسا کہ اس کا بیان ابھی گزرا ہے، پس جو ’’نسائی‘‘ میں وائل سے آیا ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ نماز میں کھڑے تھے آپ نے اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کو پکڑا تھا… وہ ان کی اس مفصل روایت سے مختصر ہے، اور جواس سے دو حدیثیں پیچھے ہے، پس وہ قیام ثانی میں ہاتھ باندھنے پر دلالت نہیں کرتی، اسی لیے اس پر سلف کا عمل جاری نہیں ہوا، پس آگاہ رہیں۔ ۶…حسینی تربت (مٹی)پر سجدہ کرنا کربلا کی پاکی و برکت اور اس کی زمین /مٹی پر سجدہ کرنے کی فضیلت!! یاجس کا نام رکھا گیا: تربت حسینیہ اور اس کی پاکی و برکت۔ ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’الصحیحۃ‘‘ (۳/۱۶۲۔۱۶۷) میں اس بدعت کے ابطال[2] میں فرمایا: فائدہ: ان احادیث میں ایسی کوئی چیز نہیں جو کربلا کی پاکی و برکت اور اس کی مٹی پر سجدوں کی فضیلت اور اس مٹی سے ایک ٹکیہ بنا کر نماز کے وقت اس پر سجدوں کے استحباب پر دلالت کرتی ہو۔ جس پر آج شیعہ عمل کرتے ہیں، اگر وہ مستحب ہوتا تو مکہ و مدینہ کی دو مسجدوں (مسجد حرام، مسجد نبوی) کی مٹی اس کی زیادہ حق دار تھی، وہ شیعہ کی بدعات اور ان کے اہل بیت اور ان کے آثار میں غلو ہے، اور ان کے عجائب میں سے ہے کہ وہ اپنے ہاں عقل کو تشریع کے مصادر میں سے سمجھتے ہیں، اسی لیے وہ تحسین و تقبیح کے لیے عقل کو معیار قرار دیتے ہیں، اور اس کے باوجود وہ ان احادیث سے خاک کربلا پر سجدہ کرنا افضل سمجھتے ہیں جن کے بطلان پر عقل سلیم
Flag Counter