|
اس کی سند شیخین (بخاری ومسلم) کی شرط پر ہے۔
رہی وہ چیز جو ہر غائب شخص کی غائبانہ نماز جنازہ کی عدم مشروعیت کی تائید کرتی ہے، کہ جب خلفاء راشدین اور دیگر فوت ہوئے تو کسی مسلمان نے ان کی غائبانہ نماز جنازہ نہ پڑھی، اگر انہوں نے پڑھی ہوتی تو اس کے متعلق ان سے متواتر کے ساتھ منقول ہوتا۔
اس کا اس کے ساتھ موازنہ کریں جو آج بہت سے مسلمان ہر غائب کی نماز جنازہ پڑھتے ہیں، خاص طور پر جبکہ وہ مشہور ومعروف ہو، خواہ یہ شہرت صرف سیاسی ہو اور وہ خدمت اسلام کے حوالے سے معرو ف نہ ہو، اور خواہ وہ حرم مکی میں مرا ہو، اور حج کے موقع پر ہزاروں افراد نے اس کی نماز جنازہ پڑھی ہو، اس نماز کے مثل ہم نے جو ذکر کیا اس سے موازنہ کریں، آپ یقینا جان لیں گے کہ وہ ان بدعات میں سے ہے جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور سلف رضی اللہ عنہم کے مذہب کے متعلق جاننے والا کوئی شخص شک نہیں کر سکتا۔
۷۳: ان میں سے بعض کا نماز جنازہ کے وقت یوں کہنا:
’’سبحان مَن قہر عبادہ بالموت، وسبحان الحی الذی لا یموت۔‘‘: ’’السنن والمبتدعات‘‘ (۶۶) ’’احکام الجنائز‘‘ (۳۱۶/ ۷۳) ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۱/ ۷۳)
۷۴: نماز جنازہ کے وقت جوتے اتار دینا خواہ ان میں ظاہری نجاست نہ لگی ہو، پھر ان جوتوں کے اوپر کھڑے ہونا:
’’احکام الجنائز‘‘ (۳۱۶/ ۷۴)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۱/ ۷۴) ۔
۷۵: امام کا (جنازہ پڑھاتے وقت) آدمی کے وسط میں اور عورت کے سینے کے پاس کھڑا ہونا:
دیکھیں: مسئلۃ ۷۳ [1] ’’احکام الجنائز‘‘ (۳۱۶/ ۷۵)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۱/ ۷۵)
۷۶: دعائے استفتاح کی قراء ت:
(مسئلہ ۷۷ پر تعلیق دیکھیں، ص:۱۵۱) [2] ’’احکام الجنائز‘‘ (۳۱۶/ ۷۶)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۱/ ۷۶)۔
۷۷: سورۃ الفاتحہ اور اس کے ساتھ ایک اور سورت کی قراء ت سے اعراض:
(مسئلہ ۷۷ پر تعلیق دیکھیں، ص: ۱۵۲۔۱۵۳) ’’احکام الجنائز‘‘ (۳۱۶/ ۷۷)، ’’تلخیص الجنائز‘‘ (۱۰۱/ ۷۷) ۔
|