|
پر اس کی نماز جنازہ پڑھنا واجب ہو جاتا ہے، ہاں اگر وہ کافروں کے ہاں فوت ہوا ہو، اور وہاں اس کی نماز جنازہ پڑھنے والا کوئی نہ ہو، تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر لازم تھا کہ آپ نماز جنازہ پڑھاتے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے نبی اور ولی (سرپرست) جو ہوئے، اور آپ اس کے سب سے زیادہ حق دار ہیں، پس یہ (اللہ اعلم) وہ سبب ہے جو اس کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھانے کا سبب بنا۔‘‘
اس طرح اگر کوئی مسلمان کسی ملک اور علاقے میں فوت ہوا ہو اور اس کی نماز جنازہ پڑھی گئی ہو، تو کسی دوسرے ملک کا باشندہ اس کی غائبانہ نماز جنازہ نہیں پڑھے گا، اگر پتہ چل جائے کہ کسی رکاوٹ کی وجہ سے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی گئی، تو پھر مسنون یہ ہے کہ اس کی نماز جنازہ (غائبانہ) پڑھی جائے اور مسافت کی دو ری کی وجہ سے اسے ترک نہ کیا جائے۔جب وہ اس کی نماز جنازہ پڑھیں تو قبلہ رخ ہوں، اور اس میت کے ملک و علاقے کی طرف رخ نہ کریں، اگر وہ قبلہ کی سمت میں نہ ہو۔
بعض علماء کا موقف ہے کہ غائبانہ نماز جنازہ مکروہ ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ یہ فعل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص تھا، جبکہ نجاشی کے نماز جنازہ کے حکم کے حوالے سے ہے کہ بعض روایات میں مروی ہے کہ ’’آپ کے لیے زمین کے نشانات برابر کر دئیے گئے، حتیٰ کہ آپ اس کی جگہ دیکھ رہے تھے۔، ،[1]
یہ تاویل فاسد ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب افعال شریعت میں سے کوئی فعل کیا، تو پھر آپ کی پیروی کرنا ہم پر لازم ہوتی ہے، جبکہ تخصیص کا علم تو دلیل سے ہوتا ہے اور یہ جو واضح ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ساتھ عید گاہ/ جنازہ گاہ تشریف لے گئے، آپ نے ان کی صفیں بنوائیں، انہوں نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی، تو معلوم ہوا کہ یہ تاویل فساد ہے۔ واللّٰہ اعلم‘‘
ویانی، جو کہ شافعی المسلک ہیں، نے بھی خطابی کے موقف کو پسند کیا۔
اور ابوداود کا بھی یہی مذہب و مسلک ہے، انہوں نے اپنی ’’السنن‘‘ میں ایک حدیث کے لیے اس طرح عنوان قائم کیا ہے: ’’باب فی الصلاۃ علی المسلم یموت فی بلاد الشرک‘‘ اور متاخرین میں سے علامۃ محقق شیخ صالح مقبلی[2] نے بھی اسے اختیار کیا، جیسا کہ ’’نیل الاوطار‘‘ (۴/۴۳) میں ہے اور انہوں نے اس کے لیے اس اضافے سے استدلال کیا ہے جو حدیث کے بعض طرق میں واقع ہوا ہے:
’’تمہارا بھائی دیار غیر میں فوت ہوا ہے، اٹھو اور اس کی نماز جنازہ پڑھو۔‘‘
|