|
وغیرہ میں جاہل لوگ جنازے پر بڑی خوش الحانی اور تلفظ کی صحیح ادائیگی کے ساتھ قراءت کرتے ہیں تو وہ علماء کے اجماع کے مطابق حرام ہے، میں نے اس کی قباحت، اس کی شدید حرمت اور اس (اجماع) کا انکار کرنے کی کوشش کرنے والے کے فسق کی وضاحت کی ہے جس کا وہ کتاب ’’آداب القراء‘‘ میں انکار نہ کر سکا، واللّٰہ المستعان‘‘
صلاۃ التراویح‘‘ (ص۲۴) میں شیخ علی محفوظ رحمہ اللہ کی کتاب ’’الابداع‘‘ سے منقول عبارت دیکھیں، انہوں نے جنازے کے آگے بلند آواز سے ذکر کرنے کی بدعت کی طرف اشارہ کیا ہے۔
۵۵ ب:جنازے کے آگے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود، تسبیح (سبحان اللّٰہ) اللّٰہ اکبر اور لا الہ الا اللّٰہ کا بلند آواز سے ورد کرنا:
’’تعالیم الاسلام‘‘ کے مصنف نے (ص ۲۵۲۔۲۵۳) بیان کیا: ’’جنازے کے آگے (بلند آواز سے) لاالہ الا اللّٰہ، اللّٰہ اکبر، سبحان اللّٰہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنے میں کوئی مضائقہ نہیں! کیونکہ وہ میت کے لیے ایک شعار وعلامت بن گیا ہے اور اس کے ترک کرنے میں حقارت و عیب ہے، اس میں اور اس کے وارثوں میں تعرض ہے، اور اگر اس کے وجوب کے بارے میں کہا جائے تو وہ بھی بعید نہیں۔‘‘
ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’الضعیفۃ‘‘ (۱/ ۶۰۶۔۶۰۷) میں اس قول کا ردّ کرتے ہوئے فرمایا:
’’یہ ایسی بدعت محدثہ ہے کہ جس کی سنت میں کوئی اصل ہے نہ ائمہ میں سے کسی نے اس کے متعلق کہا ہے، مجھے ان متاخرین پر سخت تعجب ہوتا ہے، جو طالب علموں کو اس دلیل کی بنیاد پر صحیح حدیث کی اتباع کرنا حرام ٹھہراتے ہیں کہ مذہب (تقلید) اس کے خلاف ہے، پھر وہ ایسے امر میں اجتہاد کرتے ہیں جس میں اجتہاد کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ کیونکہ وہ سنت کے خلاف ہے اور جو ائمہ نے کہا ہے اس کے بھی خلاف ہے جن کی تقلید کا وہ زعم رکھتے ہیں۔‘‘
اللہ کی قسم! قریب تھا کہ میں متاخرین میں سے جو باب اجتہاد [1] کو بند کرنے کے متعلق کہتے ہیں ان کے قول کا قائل ہونے کی طرف مائل ہو جاتا ہے، جس وقت میں ایسے اجتہادات دیکھتا ہوں جن پر کوئی شرعی دلیل دلالت کرتی ہے نہ امام کی تقلید! بے شک یہ مقلد اگر اجتہاد کریں، ان کی خطائیں ان کی درستگی سے زیادہ اور ان کا بگاڑ ان کی اصلاح سے زیادہ ہو۔ واللّٰہ المستعان
۵۶: جنازے کے پیچھے جلالہ یا ’’بُردہ‘‘ یا ’’دلائل‘‘ اوراسماء حسنی کا ذکر کرنا:
شیخ محمد بن احمد خضری شقیری کی ’’السنن والمبتدعات‘‘ (ص۶۷) ’’احکام الجنائز (۳۱۴/۵۶)
|