| حق اور بلند مقام و مرتبہ کا اعتراف تھا، ایسی صورت میں معاویہ رضی اللہ عنہ سے بعید تھا جب کہ ان میں عقل، دین، حلم اور اچھے اخلاق کے اوصاف تھے کہ وہ علی رضی اللہ عنہ پر لعنت بھیجنے اور انھیں برا بھلا کہنے کے لیے صریح حکم دیتے، اس سلسلے میں ان سے جو کچھ مروی ہے اس کی اکثریت سراسر جھوٹ ہے، اس سلسلے میں صحیح ترین بات سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے ان کا سوال کرنا ہے کہ ابوتراب علی( رضی اللہ عنہ ) کو برا بھلا کہنے سے تمھیں کون سی چیز روک رہی ہے؟ یہ برا بھلا کہنے کا صریح حکم نہیں ہے، یہ تو صرف ان کے برا بھلا نہ کہنے کے سبب کے بارے میں سوال تھا، تاکہ اس سلسلے میں ان کی مثبت یا منفی رائے کو جان لیں، جیسا کہ ان کے جواب سے ظاہر ہے، معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے جب یہ جواب سنا تو مطمئن ہوگئے اور اسے قبول کرلیا، اور مستحق کے حق کا اعتراف کرلیا۔‘‘[1] بہترین کتاب ’’الانتصار للصحب و الآل من افتراء ات السماوی الضال‘‘ کے مؤلف ڈاکٹر ابراہیم رحیلی کہتے ہیں: ’’اس سلسلے میں، واللہ اعلم، جو میں سمجھتا ہوں وہ یہ کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے سعد رضی اللہ عنہ کی چٹکی لیتے ہوئے ان سے سوال کیا تھا، اس سے آپ کا مقصد تھا کہ وہ علی رضی اللہ عنہ کے بعض فضائل کا اظہار کریں، بلاشبہ معاویہ رضی اللہ عنہ بہت ذہین اور ہوشیار تھے، لوگوں سے سوال و جواب کرنا اور اس کے ذریعہ سے ان کی رائے معلوم کرلینا پسند کرتے تھے، چنانچہ آپ نے چاہا کہ علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں سعد رضی اللہ عنہ کی رائے معلوم کرلیں، چنانچہ ان سے اس برانگیختہ کرنے والے اسلوب میں سوال کیا، ان کا یہ قول اس قول جیسا ہے جیسے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا تھا: کیا آپ علی( رضی اللہ عنہ ) کے طور طریقے پر ہیں ؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انھیں جواب دیا: عثمان( رضی اللہ عنہ ) کے طور طریقے پر بھی نہیں ہوں، میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طور طریقے پر ہوں۔‘‘[2] ظاہر سی بات ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات ابن عباس رضی اللہ عنہما سے چٹکی لیتے ہوئے کہی تھی، اسی طرح سعد رضی اللہ عنہ سے جو با ت کہی تھی وہ بھی اسی قبیل سے تھی۔ شیعوں کا یہ دعویٰ کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے برا بھلا کہنے کا حکم دیا تھا، معاویہ رضی اللہ عنہ کی جانب سے اس طرح کے حکم کا صادر ہونا بعید از قیاس ہے۔[3] اور اس طرح کے حکم کے صدور سے درج ذیل باتیں مانع ہیں: |
| Book Name | سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما شخصیت اور کارنامے |
| Writer | ڈاکٹر علی محمد محمد الصلابی |
| Publisher | الفرقان ٹرسٹ خان گڑھ ضلع مظفر گڑھ پاکستان |
| Publish Year | |
| Translator | ڈاکٹر لیس محمد مکی |
| Volume | |
| Number of Pages | 548 |
| Introduction |