Maktaba Wahhabi

168 - 1201
’’نہیں، بلکہ اس کے سرکے بال منڈوا دو، اور بالوں کے برابر چاندی بطور صدقہ، مسکینوں اور اصحاب صفہ کو دے دو، چنانچہ انھوں نے ایسا ہی کیا۔‘‘ حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت پر چند احادیث: ٭ سیّدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کر رہے تھے: ((اَللّٰہُمَّ إِنِّيْ اُحِبُّہُ فَاَحِبَّہُ۔))[1]… ’’اے اللہ! مجھے اس سے محبت ہے تو بھی اسے محبوب بنا لے۔‘‘ ٭ سیّدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن کے بارے میں فرمایا: ((اَللّٰہُمَّ إِنِّيْ أُحِبُّہُ فَاَحِبَّہُ وَ احْبِبْ مَنْ یُّحِبُّہُ۔))[2] ’’اللہ مجھے اس سے محبت ہے تو بھی اسے محبوب بنا لے اور جو اس سے محبت رکھے اسے بھی اپنا محبوب بنا۔‘‘ ٭ سیّدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انھیں اور حسن کو پکڑ کر یہ دعا کرتے تھے: ((اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ اُحِبُّہُمَا فَاَحِبَّہُمَا۔))[3] ’’اے اللہ! مجھے ان سے محبت ہے تو بھی ان سے محبت رکھ۔‘‘ ٭ سیّدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا حالانکہ اس وقت حسن رضی اللہ عنہ آپ کی گود میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی لوگوں کی طرف دیکھتے، کبھی ان کی طرف اور فرماتے: ((اِبْنِيْ ہٰذَا سَیِّدٌ وَ لَعَلَّ اللّٰہَ أَنْ یُصْلِحَ بِہِ بَیْنَ فِئَتَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔))[4] ’’میرا یہ بیٹا سردار ہے، اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرائے گا۔‘‘ یقینا حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ آپ سردار ہیں، ان کے لیے بڑے فخر کی بات اور شرافت کا تمغہ ہے- رضی اللہ عنہ و ارضاہ- آپ کے نانا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بشارت مکمل طور سے صادق آئی، چنانچہ آپ معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں خلافت سے دستبردار ہوگئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھوں مسلمانوں کے اختلاف اور ان کی خون ریزیوں کو بند کردیا۔ یہ 41ھ کا واقعہ ہے۔ آپ کی مدت خلافت صرف چھ (6) مہینے ہے۔ اسلامی تاریخ میں اس سال کو ’’عام الجماعۃ‘‘ کہا جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث میں اسی بات کی طرف اشارہ کیا تھا: ((وَ لَعَلَّ اللّٰہَ أَنْ یُصْلِحَ بِہِ بَیْنَ فِئَتَیْنِ عَظِمَتَیْنِ۔))[5]
Flag Counter