| ’’میں تمھارا یہ سامان ہوں گا، حوض کوثر پر، جو وہاں آئے گا وہ اس حوض میں سے پیئے گا، اور جو پیئے گا اس میں سے وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا اور میرے سامنے کچھ لوگ آئیں گے جن کو میں پہچانتا ہوں گا اور وہ مجھ کو پہچانتے ہوں گے، پھر وہ روک دیے جائیں گے میرے پاس آنے سے۔ میں کہوں گا: یہ میرے لوگ ہیں، جواب ملے گا: تم نہیں جانتے جو جو انھوں نے کیا، تمھارے بعد (یعنی مرتد ہوگئے) میں کہوں گا تو دور ہو دور ہو جس نے اپنا دین بدل دیا میرے بعد۔‘‘ بعض اہل تشیع کا کہنا ہے کہ یہ متعدد احادیث جنھیں اہل سنت نے اپنی کتب صحاح و مسانید میں نقل کیا ہے ان میں تدبر کرنے والا شخص اس قطعی نتیجہ پرپہنچے گا کہ اکثر صحابہ خود بدل گئے اور دین کو بدل دیا، بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد چند اصحاب رسول کو چھوڑ کر کہ جنھیں -ہمل النعم- سے تعبیر کیا گیا ہے، بقیہ اکثر صحابہ مرتد ہوگئے اور ان احادیث کو تیسری قسم کے لوگ یعنی منافقین پر کسی صورت میں محمول نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے کہ حدیث میں ’’فَأَقُوْلَ أَصْحَابِیْ‘‘[1]کے الفاظ ہیں۔ اور اس لیے بھی منافقین مراد نہیں ہوسکتے ہیں کہ اگر انھیں اپنے دین سے پھر جانے کی بات کہی جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ وفات نبوی کے بعد مومن ہوگئے اور یہ صریح غلطی ہے۔[2] تردید:… اس اعتراض اور اشکال کی تردید یوں ہے کہ جب علیم و خبیر ہستی نے اپنی کتاب میں اور اس کے پیغمبر نے اپنی سنت میں ان صحابہ کی توثیق کردی ہے، تو اب ان کی عدالت یا ایمان میں شک کرنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ اللہ اور اس کے رسول نے ان کی خوب سے خوب تعریف کی اور ان کے بارے میں بہتر سے بہترین اوصاف کا ذکر فرمایا، جن کی صحت معلوم اور متواترہے اور جن کا بیان چند صفحات کے بعد تفصیلی طور سے ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تقریباً تمام اہل سنت شارحین حدیث اس بات پر متفق ہیں کہ ان احادیث میں (پلٹ جانے والوں سے) صحابہ کرام مراد نہیں ہیں اور نہ ان پر کوئی اعتراض اور رد و قدح وارد ہوتا ہے۔ ابن قتیبہ رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث سے ارتداد صحابہ پر استدلال کرنے والے روافض شیعہ کی تردید میں فرماتے ہیں کہ بھلا یہ کیوں کر ممکن ہے کہ جن لوگوں کے بارے میں اللہ کو علم ہو کہ یہ لوگ نبی کی وفات کے بعد اس کے دین سے مرتد ہوگئے پھر بھی وہ ان سے خوش رہے، ان کی تعریف کرے اوران کی خوبیوں کا تذکرہ توریت و انجیل میں بطور مثال کرے۔ اگر یہ حقیقت تسلیم نہیں ہے تو انھیں یہی کہنا چاہیے کہ اللہ ہی ان لوگوں کی حقیقت اور ان کے عقائد کو نہیں جان سکا اور یہ عقیدہ تو کافروں سے بھی بدترین عقیدہ ہے۔[3] خطابی فرماتے ہیں: ’’صحابہ میں سے کوئی بھی مرتد نہیں ہوا، بلکہ وہ سنگ دل عرب مرتد ہوئے جنھوں نے دین کی خاطر کوئی |
| Book Name | سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے |
| Writer | ڈاکٹر علی محمد محمد الصلابی |
| Publisher | الفرقان ٹرسٹ خان گڑھ ضلع مظفر گڑھ پاکستان |
| Publish Year | |
| Translator | فضیلۃ الشیخ شمیم احمد خلیل السلفی |
| Volume | |
| Number of Pages | 1202 |
| Introduction |