Maktaba Wahhabi

770 - 1201
اسے آزاد کرتے وقت چار درہم بھی دیتے تھے۔[1] خلیفۂ راشد علی رضی اللہ عنہ کے اس برتاؤ کا مقصد بالکل واضح ہے یعنی یہ کہ باغیوں کا پہلو کمزور ہوجائے، آپ کے پاس اسی جنگ میں ایک قیدی لایا گیا، قیدی کہنے لگا: مجھے قید میں مت مارنا۔ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں قید کرکے نہیں ماروں گا، میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں، پھر آپ نے اسے معاف کردیا اور کہا، کیا تم میں کوئی بھلائی ہے بیعت کرسکتے ہو؟[2] مذکورہ روایات سے قیدیوں کے ساتھ علی رضی اللہ عنہ کے برتاؤ کی یہ مختلف نوعیتیں سامنے آتی ہیں: ٭ قیدی کا احترام اور اس کی طرف احسان۔ ٭ بیعت کی پیش کش اور اسے قبول کرلینے پر آزادی کا حصول۔ ٭ بیعت نہ کرنے کی صور ت میں ہتھیار ضبط کرنا اور دوبارہ جنگ میں شرکت نہ کرنے کی قسم لے کر آزاد کردینا۔ ٭ لڑائی پر بضد رہنے کی صورت میں قید میں باقی رکھنا اور قتل نہ کرنا۔[3] ٭ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک مرتبہ پندرہ (15) قیدی لائے گئے، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ سب زخمی تھے، ان میں جس کی وفات ہوگئی آپ نے اسے غسل دیا، کفنایا اور نماز جنازہ پڑھی۔[4] علامہ محب الدین الخطیب رحمۃ اللہ علیہ اس جنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ان سب کے باوجود یہ مثالی جنگ، تاریخ میں پہلی ایسی انسانی جنگ ہے جس میں دونوں جنگجو لشکر ایک ساتھ ان فضائل کے اصولوں پر کاربند رہے جن کی تمنا آج دنیا کے حکماء و دانشوران کرتے ہیں کہ کاش ان کی جنگوں میں بھی خواہ وہ اکیسویں صدی کی جنگ کیوں نہ ہو، ان فضائل کا چلن ہوتا، اللہ تعالیٰ حکیم و دانا ہے، یہ اس کی حکمت ہی کی تجلی ہے کہ اگر یہ جنگ نہ ہوئی ہوتی تو اسلامی جنگ کے بہت سے اصول و قواعد پردۂ خفا میں رہتے، نہ کوئی جانتا اور نہ وہ لکھے جاتے۔[5] ابن العدیم فرماتے ہیں: یہ پوری جنگ اہل بغاوت کے حکم پر مشتمل ہے، اسی لیے ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: باغیوں کے بارے میں علی رضی اللہ عنہ نے جو قدم اٹھایا اگر وہ وجود میں نہ آتا تو کوئی نہ جانتا کہ مسلمان باغیوں کے ساتھ کیا برتاؤ کیا جائے۔[6] 11۔مقتولین کی تعداد: مقتولین کی تعداد کے بارے میں علماء کے مختلف اقوال ہیں۔ ابن ابی خیثمہ کہتے ہیں کہ جنگ صفین میں مقتولین
Flag Counter